(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق بچوں کے تحفظ، سلامتی اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کے اقدامات جاری ہیں۔
اس سلسلے میں چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد نے صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کرنے اور بچوں کے تحفظ سے متعلق تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کیلئے سیکرٹری سکول ایجوکیشن کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
مراسلے میں سرکاری سکولوں میں طلبہ، اساتذہ اور والدین پر مشتمل چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، ان کمیٹیوں کے ذریعے بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی، تحفظ کے مسائل کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کو بروقت رپورٹنگ یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
سارہ احمد نے کہا کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ اور ذاتی تحفظ سے متعلق آگاہی کو سکول نصاب کا حصہ بنانا ضروری ہے، بچوں کو جسمانی تحفظ، ذاتی حدود، نامناسب رویوں کی شناخت اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں قابلِ اعتماد بڑوں کو بروقت آگاہ کرنے کی تعلیم دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو سائبر بلنگ، آن لائن ہراسگی، آن لائن گرومنگ اور ڈیجیٹل استحصال سے محفوظ رکھنا بھی ناگزیر ہے، اس مقصد کیلئے ڈیجیٹل سیفٹی ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ بچوں کو سوشل میڈیا کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال، آن لائن پرائیویسی اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔
چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کیلئے محض واقعات کے بعد کارروائی کافی نہیں، بلکہ آگاہی، بروقت نشاندہی اور پیشگی حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں، چائلڈ پروٹیکشن پریوینشن مہم کے تحت بچوں، والدین اور اساتذہ میں تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نصابی مواد کی تیاری، تکنیکی معاونت اور اساتذہ کی تربیت کیلئے محکمہ سکول ایجوکیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا، پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں میں بچوں کے تحفظ کا مؤثر نظام قائم کرنا اس مہم کا اہم حصہ ہے۔
سارہ احمد کے مطابق بچوں کو اپنے حقوق، ذاتی تحفظ اور آن لائن خطرات سے آگاہ کرکے انہیں اپنی حفاظت کے قابل بنانا مقصد ہے، بچوں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
