اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 388.00 زندہ مرغی
  • 563.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ

07 Nov 2026
07 Nov 2026

(لاہور نیوز) پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی میں مختلف کمپنیوں کی دلچسپی بڑھ گئی، 6 سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں۔

پاکستان سپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے قیام کے بعد 4 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ رجسٹرڈ کمپنیوں میں ایتھرون، فلیناوٹکس، گلیکسی سپیس اور سپیس پی شامل ہیں جبکہ سٹارلنک اور سپیس سیل پاکستان بھی مقامی کمپنیوں کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔

ایس ای سی پی نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کی رجسٹریشن سے متعلق رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش کردی۔ چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی رانا محمود الحسن کے خط پر تفصیلات فراہم کی گئیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق صرف کمپنی کی رجسٹریشن سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی تجارتی فراہمی کی اجازت نہیں ملتی، کمپنیوں کے لیے پاکستان سپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کا این او سی لازمی ہے، سپیس پی کے علاوہ کسی کمپنی نے تاحال پی ایس اے آر بی کا این او سی پیش نہیں کیا۔

ایس ای سی پی کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے غیر ملکی ڈائریکٹرز کی سکیورٹی کلیئرنس التوا کا شکار ہونے کے باعث پراسیس رکا ہوا ہے، سٹارلنک، گلیکسی سپیس اور سپیس سیل پاکستان کے غیر ملکی ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی سکیورٹی کلیئرنس زیر التوا ہے۔

وزارت داخلہ کی کلیئرنس اور پی ایس اے آر بی کا این او سی ملنے کے بعد پی ٹی اے لائسنس جاری کرے گا، تمام ریگولیٹری تقاضے اور سکیورٹی مراحل مکمل ہونے پر ہی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا آغاز ممکن ہوگا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے