اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 442.00 زندہ مرغی
  • 641.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 38.61 قیمت فروخت : 38.71
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.36 قیمت فروخت : 278.86
  • یورو قیمت خرید: 301.35 قیمت فروخت : 301.95
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 352.65 قیمت فروخت : 353.30
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 182.61 قیمت فروخت : 183.11
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 206.29 قیمت فروخت : 206.79
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.80 قیمت فروخت : 1.83
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.19 قیمت فروخت : 74.34
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.91
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 211600 دس گرام : 181400
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 193965 دس گرام : 166282
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 2382 دس گرام : 2044
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار

طرزِ زندگی

لاہور دنیا میں ایک منفرد شہر ہے۔ لاہورمیں صدیوں سے آباد لوگوں کااپناایک مزاج ہے ‘اپنا منفرد کلچر ہے ‘رہنے سہنے کا ایک پیار اانداز ہے ‘عزت و آبرو کے جذبوں میں اپنا جدا گانہ ڈھنگ ہے زبانوں وبیان میں اپنا ایک خوبصورت رنگ ہے ہنسی مذاق کے انداز ‘لباس ‘خوراک ‘اور چال ڈھال کے اپنے انداز و قار اور اپنے جذبات ہیں۔

لاہور کے لوگ قدرتی طور پر یا پانی اورمٹی کے اثر کے باعث یا ماحول کے باعث خوش خوراک ہیں ۔ خوش گلو ہیں اور خوش پوش ہیں۔ صبح سویرے بچے ‘بڑے بوڑھے ‘جوان سب دودھ دہی والی دوکانوں اورحلوائیوں کی دوکانوں کےگرد ہجوم کی صورت جمع ہوتے ہیں ۔ لسی کلچے کا ناشتہ حلوہ پوری کا ناشتہ یا سری پائے اور کلچے کا ناشتہ عام ہے ‘البتہ کئی گھروں میں صبح سبز چائے اور پراٹھا کا ناشتہ ہوتا ہے ‘کئی گھروں میں ایک وقت روٹی اور شام کوچاول کھانے کا رواج ہے مگر عام طور پر چاول کم کھایا جاتا ہے ۔ مٹھائی کی دوکانیں کھیر کھویا گاجر کا حلوہ و غیرہ اور سیخ کباب اور شامی کباب کی تھیں اس کو ٹکی کباب کہتے ہیں۔ خلیفہ کبابوں والا بھاٹی دروازے کے استاد پپو بھنے ہوئے گوشت والا گھوٹا حلوائی بھاٹی گیٹ والا ‘حسین بخش حلوائی موچی دروازے والا ‘بہت بعد میں مشہور ہوئے ‘البتہ ڈبی بازار میں مولا ماش کی دال والا مشہور تھا ‘اسکی دوکان گلی میں تھی اور بارہ بجے سے دو بجے تک اس کی ماش کی دال خوب بکتی تھی.

حضرت داتا گنج بخشؒ کے آستانے پر ہمیشہ سے لنگر جاری ہے ‘سیکڑوں نہیں ہزاروں لوگ اسی لنگر سے پیٹ بھرتے ہیں نذزو نیاز کے سلسلے مدتوں سے جاری ہیں۔ محرم میں دس دن تک شیعہ ‘ سنی دل کھول کر نیاز دلاتے ‘ کجی ٹھوٹھی کا زیادہ رواج تھا ‘ دیگیں پکتی ‘امامین کا ختم گھر گھر دلایا جاتا۔

اس شہر کے لوگ صحت کا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ورزش کا شوق اور موسیقی سے وابستگی اس شہر کی روایت ہے ۔ سر کے مارے ہوئے لوگوں میں محبت اور وفا کا جذبہ کچھ زیادہ بھی ہوتا ہےعلمواد بمیں اس شہر کو صدیوں سے ایک دریا کیسی حیثیت حاصل رہی ہے۔ عالموںاورفاضلوںکو اس شہر میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب ہی نہیں برصغیر کے اطراف وجوانب علم وفن کی روشنی بکھیرنے والے اس شہر کی جانب کھینچے چلے آتے تھے ۔

تہوار

رمضان المبارک اور عیدالفطر

عید الاضحٰی

عرس داتا گنج بخش

سید ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری معروف بہ داتا گنج بخشکا لاہور کی تاریخ میں اہم مقام ہے۔ لاہور کو اسی مناسبت سے داتا کی نگری بھی کہا جاتا ہے۔ عرس داتا گنج بخش لاہور کا سب سے بڑا ثقافتی تہوار بھی سمجھا جاتا ہے۔ اتا صاحب کا عرس صفر کی اٹھارہ تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ روایتی میلہ داتا گنج بخش کے مزار اور قریبی مینار پاکستانکے تمام علاقے پر محیط ہوتاہے۔ عقیدت مند مزار پر فاتحہ خوانی اور دعا اور میلہ میں خریداری کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں موجود تفریحی سہولتوں اور سرکس وغیرہ سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ داتا گنج بخش کی تین روزہ تقریبات ہوتی ہیں اور ان کے دوران میں مزار پر چادر پوشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، زائرین فاتحہ خوانی کرتے ہیں، سلام پیش کرتے ہیں، منتیں مانتے ہیں اور ساتھ ہی مزار سے متصل مسجد کے احاطے میں تینوں دن مجالسِ مذاکرہ منعقد ہوتی ہیں جن میں دین ِ اسلام اور تصوف کے موضوعات کے ساتھ ساتھ سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے سیرت وکردار پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مزار پر دودھ کی سبیل لگتی ہے اور تینوں دن سماع کی محفلیں ہوتی ہیں جن میں شرکت کرنا ہر قوال پارٹی اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہے

میاں میر کا عرس

میر محمد المعروف میاں میر پیر لاہوری ایک مسلم صوفی جو لاہور (موجودہ پاکستان) کے علاقے دھرم پورہمیں مقیم رہے۔ ملک کے طول و عرض سے بڑی تعداد میں زائرین عرس کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ مزار کے احاطے میں زائرین دئیے روشن کرتے ہیں۔ عرس کے موقع پر قریبی علاقے میں کھانوں اور دیگر دکانیں سجائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ارد گرد کے علاقے میں ایک میلے کا سماں ہوتا ہے

میلہ چراغاں

میلہ چراغاں یا میلہ شالامار دراصل پنجابی صوفی شاعر شاہ حسین کے عرس کی تین روزہ تقاریب کا نام ہے۔ یہ تقاریب شاہ حسین کے مزار، جو لاہور کے علاقے باغبانپورہمیں واقع کے قریبی علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں۔ باغبانپورہ کا علاقہ لاہور شہر کے باہر شالیمار باغ کے قریب واقع ہے۔ یہ تقاریب پہلے شالامار باغ کے اندر منعقد ہوا کرتی تھیں مگر صدر ایوب خان کے صدارتی حکم 1958ءکے بعد سے شالیمار باغ میں ان تقاریب کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پہلے پہل یہ عرس پنجاب میں سب سے بڑی تقریب سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ بسنت کے بعد دوسرا بڑا ثقافتی تہوار ہے۔ ماضی قریب تک یہ میلہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا ثقافتی میلہ گردانا جاتا تھا۔۔ اب بسنت پر پابندی کے باعث یہ پھر سے بڑی تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔