(لاہور نیوز) پنجاب کے سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد ایک کروڑ 5 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، تاہم اس کے باوجود درسی کتابوں کی اشاعت میں مسلسل کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ آئندہ تعلیمی سال 2027-28 کے لیے صوبے کے سرکاری سکولوں میں صرف 2 کروڑ 40 لاکھ 75 ہزار 327 درسی کتب چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ایم آئی یو کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تعداد میں مزید 25 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی سال 2022-23 میں 6 کروڑ سے زائد درسی کتب شائع کی گئی تھیں، تاہم چند برسوں کے دوران سالانہ اشاعت میں تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ کتابوں کی کمی ہوگئی ہے۔
آئندہ تعلیمی سال کے لیے پیکٹا کی جانب سے پرائمری جماعتوں کے لیے ایک کروڑ 47 لاکھ 76 ہزار 122، چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے 43 لاکھ 26 ہزار 673 اور نویں و دسویں جماعت کے لیے 31 لاکھ 99 ہزار 749 درسی کتب شائع کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ قرآنی سپاروں اور ترنم القرآن کی 15 لاکھ 95 ہزار 270 کاپیاں جبکہ غیر مسلم طلبہ کے لیے مختلف مذاہب کی 17 ہزار 513 درسی کتب چھاپی جائیں گی۔
آئندہ تعلیمی سال میں پرائمری سطح پر تجویدی سپاروں کی اشاعت میں 10 لاکھ کی کمی کی گئی ہے، جبکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی درسی کتب کی اشاعت میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ایم آئی یو حکام کے مطابق درسی کتابوں کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بک بینک کے ذریعے طلبہ کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ متعدد سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے باعث نئی درسی کتابوں کی طلب میں کمی آئی ہے۔
