اپ ڈیٹس
  • 238.00 انڈے فی درجن
  • 348.00 زندہ مرغی
  • 504.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.28 قیمت فروخت : 41.35
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.55 قیمت فروخت : 278.05
  • یورو قیمت خرید: 324.11 قیمت فروخت : 324.69
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 377.79 قیمت فروخت : 378.47
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.58 قیمت فروخت : 197.93
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 201.11 قیمت فروخت : 201.48
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.91 قیمت فروخت : 74.04
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

ورچوئل اثاثہ خدمات کی باقاعدہ لائسنسنگ کا عمل شروع ہوگیا: بلال بن ثاقب

22 Aug 2026
22 Aug 2026

(لاہور نیوز) وزیرِ مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ملک میں ورچوئل اثاثہ خدمات کی باقاعدہ لائسنسنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے جبکہ پہلے سے یہ خدمات فراہم کرنے والے کاروباروں کو قانونی دائرے میں آنے کے لیے 5 ستمبر 2026 تک درخواست دینا ہوگی۔

وزیرِ مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ورچوئل اثاثوں کا ریگولیٹری فریم ورک صرف ایکسچینجز کی نگرانی نہیں بلکہ مالیاتی جدت، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی بنیاد ہے، بلاک چین، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن سے برآمدات، ترسیلاتِ زر اور ایس ایم ای فنانسنگ میں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے برآمد کنندگان کے تجارتی واجبات اور دیگر اثاثوں کو عالمی سرمایہ مارکیٹ سے جوڑ کر کاروباروں کو ورکنگ کیپیٹل تک بہتر رسائی دی جا سکتی ہے، جبکہ پاکستان اسلامی مالیات میں بھی ٹوکنائزڈ مصنوعات کے ذریعے نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان کا ورچوئل اثاثوں کا ریگولیٹری سفر تین مراحل پر مشتمل ہے، جس میں لائسنسنگ، صارفین کا تحفظ اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کا نفاذ شامل ہے۔ بعد ازاں ترسیلاتِ زر، سرحد پار ادائیگیوں، ڈیجیٹل برآمدات، ٹریڈ فنانس اور ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز میں بلاک چین کے عملی استعمال پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور بلاک چین عالمی معیشت میں تیزی سے تبدیلی لا رہے ہیں، اس لیے پاکستان کو مستقبل کی کسی ایک ٹیکنالوجی پر انحصار کے بجائے ایسی قومی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی جو آنے والی تکنیکی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا سکے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے