اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 271.00 زندہ مرغی
  • 392.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.06 قیمت فروخت : 41.13
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.25 قیمت فروخت : 278.75
  • یورو قیمت خرید: 321.33 قیمت فروخت : 321.91
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.46 قیمت فروخت : 373.13
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.49 قیمت فروخت : 199.85
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.90
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.76 قیمت فروخت : 907.39
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
کھیل

کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان

15 Jun 2026
15 Jun 2026

(لاہور نیوز) چیئرمین سید محسن نقوی کی زیر قیادت پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹس سسٹم میں اہم تبدیلیوں کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد سٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی کرکٹ کے مسلسل ارتقا کے ساتھ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا اب حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور ’’ایک ہی نظام سب کیلئے‘‘ کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ایسا سٹرکچر بنایا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے، انہیں ترجیح دیتا ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔

جہاں دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز اب بھی تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی میں رکھتے ہیں اور ایک ٹیسٹ سپیشلسٹ کو ٹی20 فرنچائز کھلاڑی کے ساتھ ایک ہی گریڈ کیلئے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں، وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی ایک ایسا ماڈل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت اور ترجیحات کو تسلیم کرتا ہے۔

نئے نظام میں صرف تنخواہوں کے گریڈز ہی تبدیل نہیں کئے گئے بلکہ جدید کرکٹ کے اس سب سے مشکل سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ ٹی20 کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ کیسے رکھا جائے اور ہر فارمیٹ کے کرکٹر کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے؟

کرکٹ فارمیٹ کی باضابطہ نشاندہی

نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور سٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے، سینٹرل کنٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے سے منسلک کیا جائے گا، بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔

کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کئے جائیں گے، یہ انتخاب واضح، دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہو گا۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے، نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے، چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کیلئے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لئے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔

وائٹ بال اور ٹی20

مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کیلئے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہو گا، کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا، ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے، تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی یے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے۔

چار گریڈز سے پانچ فارمیٹ ٹریکس تک

پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو A، B، C اور D کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا، جو صرف معاوضے کی سطح کو ظاہر کرتی تھیں، لیکن نئے نظام میں انکی جگہ پانچ واضح فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں۔

ٹریک AB — دوہرا فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے)

اس فارمیٹ کا حصہ پاکستان کے وہ نمایاں کھلاڑی بنیں گے جو کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی بنیاد ہیں، یہ بورڈ کی پرائم کیٹیگری ہو گی۔

ٹریک A — ریڈ بال سپیشلسٹ (ٹیسٹ کرکٹ)

اس فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑی مکمل طور پر ٹیسٹ کرکٹ کیلئے وقف ہوں گے، اس ٹریک کا مقصد ٹیسٹ سپیشلسٹس کو تحفظ اور فروغ دینا ہے۔

ٹریک BC — وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل)

اس فارمیٹ سے وہ کھلاڑی وابستہ ہوں گے جو محدود اوورز کی کرکٹ کے سپیشلسٹ ہوں گے۔

ٹریک D — ٹی20 انٹرنیشنل اور فرنچائز سپیشلسٹ

یہ کیٹیگری مختصر فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کیلئے ہو گی جنہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی حاصل ہو گی۔

تمام ٹریکس دو بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گے جن میں پہلا یہ کہ ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے ہی ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا، دوسرا یہ کہ ہر ٹریک میں دو داخلی درجات ہوں گے جن میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی ممکن ہو گی، پاکستان کرکٹ بورڈ ہر ٹریک میں موجود معاہدوں کی تعداد یا تقسیم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔

ٹیسٹ کھلاڑیوں کیلئے ایک تاریخی فیصلہ

نئے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، یہ اجازت مختصر فارمیٹ نہیں بلکہ صرف ریڈ بال کرکٹ کیلئے ہو گی، اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول میں تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مزید بہتر ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں، فرنچائز ٹی20 لیگز بدستور اس گروپ کیلئے بند رہیں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ نظام کیوں متعارف کروایا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک میں کام کرتا ہے، پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں مقبول ہیں اور کرکٹ بورڈ نے اس حقیقت سے لڑنے کے بجائے اس کے مطابق ایک مؤثر نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دراصل پاکستانی کرکٹرز کیلئے سینٹرل کنٹریکٹس کا پرانا سسٹم دو مسائل پیدا کرتا تھا، پہلا یہ کہ مختصر فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والا کھلاڑی بعض اوقات ایک کمٹڈ ٹیسٹ کرکٹر سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیتا تھا، دوسرا یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کیلئے وائٹ بال کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بغیر ترقی کے مواقع محدود تھے، نیا نظام ان دونوں مسائل کا خاتمہ کرتا ہے کیونکہ ہر کرکٹر کا موازنہ صرف اسی فارمیٹ کے کرکٹر سے ہو گا جس سے وہ وابستہ ہے۔

اگلا سوال یہ ہے کہ کرکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کیلئے کیسے اہل ہوں گے؟  اس کیلئے انہیں تین مرحلوں پر مشتمل ایک نظام سے گزرنا ہو گا۔

مرحلہ اول: میڈیکل اور فٹنس ٹیسٹ

ہر کھلاڑی کی جامع میڈیکل اور فٹنس اسسمنٹ کی جائے گی، اس کا مقصد کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت اور کیریئر کا تحفظ ہے۔

مرحلہ دوم: ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت

سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کیلئے کرکٹرز کیلئے لازمی ہو گا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال طور پر شریک ہوں۔

مرحلہ سوم: کارکردگی کا جائزہ

ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

جوابدہی پر مبنی سسٹم

کرکٹ بورڈ کا نیا فریم ورک سینٹرل کنٹریکٹ کو پہلے سے زیادہ شفاف بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے، کھلاڑیوں کو ان کی وابستگی اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچا جائے گا اور بورڈ ہر فیصلے کا واضح جواز پیش کر سکے گا، یہ فریم ورک 2026 کے کنٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہو گا اور سابقہ نظام کی جگہ لے گا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے