اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 298.00 زندہ مرغی
  • 432.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • تولہ: 452100 دس گرام : 387600
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 414422 دس گرام : 355297
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7171 دس گرام : 6154
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

گورننس اصلاحات ناگزیر، پاکستان جی ایس پی پلس سے محروم ہو سکتا ہے، شاہ محمود قریشی

08 Jun 2026
08 Jun 2026

لاہور (محمد اشفاق) سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور گورننس اصلاحات کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کیلئے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور سال 2025 میں پاکستان  نے یورپی ممالک کو 8.7 ارب یورو کی برآمدات کیں، جن میں سے 7 ارب یورو کی برآمدات جی ایس پی پلس سہولت کے تحت ممکن ہوئیں۔

انہوں  نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان سے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور گورننس کے شعبوں میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ موجودہ جی ایس پی پلس سہولت 2027 میں ختم ہو جائے گی اور اگلے مرحلے میں اس کے حصول کیلئے مزید سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی، جی ایس پی پلس کا حصول آسان نہیں تھا بلکہ اس کیلئے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی کوششیں کی گئیں۔

انہوں  نے دعویٰ کیا کہ اس مقصد کیلئے سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ یورپی ممالک میں پاکستان کے حق میں لابنگ کی جا سکے، سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور اور پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان  نے بھی جی ایس پی پلس کے حصول میں اہم کردار ادا کیا، اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق یورپی یونین کی تشویش کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، صحافتی تنظیموں کی جانب سے پیکا ایکٹ کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دیئے جانے پر بھی یورپی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق آئینی عدالت میں دائر درخواستیں، جبری گمشدگیوں کے الزامات اور کمزور طرزِ حکمرانی کے معاملات بھی یورپی یونین کی توجہ کا مرکز ہیں، انہوں  نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ان معاملات پر توجہ دے تاکہ پاکستان جی ایس پی پلس سہولت سے محروم ہونے کے خطرے سے بچ سکے

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے