(لاہورنیوز) ملک میں پٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے حکومت کو سپلائی صورتحال پر ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
او سی اے سی نے وزیر توانائی کو لکھے گئے ہنگامی خط میں خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کسٹم رکاوٹیں سپلائی چین کے لیے خطرہ بن رہی ہیں جب کہ ملک میں موجود ذخیرہ صرف 15 روز کے لیے کافی ہے۔
خط کے مطابق اس وقت مقامی سطح پر تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار ٹن پٹرولیم ذخیرہ موجود ہے جب کہ کسٹم کلیئرنس میں تاخیر کے باعث درآمد شدہ پٹرول کے کئی کارگو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو پا رہے۔
او سی اے سی نے بتایا کہ کسٹم وی بوک سسٹم میں مسائل کے باعث 15 سے 17 جولائی کو پہنچنے والے فیول کارگو کی کلیئرنس بھی خطرے میں ہے۔
آئل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ 66.7 ارب روپے کے زیرِ التوا پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی عدم ادائیگی سے مالی دباؤ بڑھ گیا ہے، کمپنیوں نے حکومت سے فوری طور پر واجبات کی ادائیگی اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات کی کسٹم کلیئرنس میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سٹیٹ آئل کو جون 2026 میں مزید پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث ذخائر محدود ہوئے ہیں، جس سے مستقبل میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
