لاہور: (محمد اشفاق )لاہور ہائیکورٹ نے گواہوں کی طلبی کے بارے میں رہنما اصول طے کر دیے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے گواہوں کو عدالت طلب کرنے کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کیس میں نئے سوالات سامنے آنے کی صورت میں گواہوں کی نئی فہرست دینا لازمی نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے شہری رضوان رشید کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے جاری کیا۔
درخواست گزار نے ٹرائل عدالت کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ عدالتی قوانین کا بنیادی مقصد انصاف تک رسائی کو آسان بنانا ہے، نہ کہ شہریوں کو تکنیکی پیچیدگیوں میں الجھانا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے تکنیکی بنیادوں پر درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مخالف فریق اپنے ہی لسٹڈ گواہ کو عدالت میں پیش نہ کرے تو دوسرا فریق اسے طلب کر سکتا ہے، عدالت نے درخواست گزار کو بینک منیجر کو بطور گواہ طلب کرنے کی اجازت دے دی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے پاس بینک منیجر کو بطور گواہ بلانے کی ٹھوس وجہ موجود تھی، بینک منیجر کا نام پہلے ہی گواہوں کی فہرست میں شامل تھا، اسی لیے درخواست گزار نے اسے اپنی الگ فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مخالف فریق کی جانب سے اپنے گواہ کو پیش نہ کرنے پر درخواست گزار کو مجبوراً خود بینک منیجر کو طلب کرنے کی درخواست دینا پڑی۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے بینک منیجر کو گواہ بنانے کی درخواست مسترد کرنا غلط تھا اور انصاف کے تقاضوں کے منافی تھا۔
