موٹروے گینگ ریپ کیس کومنطقی انجام تک پہنچانا بڑاچیلنج تھا:پراسیکیوٹرجنرل پنجاب
(لاہور نیوز) پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرمان کی سزائیں برقرار رہنا انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا تمام متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کو اپنے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد ایک شہری کی 15 کال پر پولیس نے فوری کارروائی شروع کی، جبکہ متاثرہ خاتون کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور ملزمان کے حلیوں کی بنیاد پر فرانزک ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے شواہد سے میچ کر گیا تھا، جبکہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کے مطابق اس کیس میں پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار انتہائی اہم رہا۔ پراسیکیوشن ٹیم نے دن رات محنت کرکے ملزمان کو سزائیں دلوائیں اور بعد ازاں ہائی کورٹ میں بھی ان سزاؤں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
فرہاد علی شاہ نے کہا کہ اس مقدمے میں پہلی اطلاع ایک عام شہری نے دی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہریوں کا تعاون جرائم کی روک تھام اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں ہونے والی کارروائیوں سے خواتین کے تحفظ اور قانون کی عملداری کے حوالے سے ایک مثبت پیغام گیا ہے۔
