(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں صلح کی بنیاد پر عمر قید کے ملزم کی بریت کی درخواست پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقتولہ کے حقیقی قانونی ورثاء کا تعین لازمی قرار دے دیا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے مقصود احمد کی اپیل پر 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حقیقی قانونی ورثاء کا تعین کیے بغیر مقتول کے قتل پر صلح مؤثر نہیں ہوسکتی۔
کیس میں مقتولہ سمیرا بی بی کے شوہر ہونے کے دو متضاد دعوے سامنے آئے۔ ممتاز احمد نے دعویٰ کیا کہ اس نے 17 اگست 2017 کو سمیرا بی بی سے شادی کی اور وہ مقتولہ کا قانونی شوہر اور وارث ہے، جبکہ شاہد اور ممتاز احمد کے دعوؤں پر تنازع موجود ہے۔
مقتولہ کے والدین نے ممتاز احمد کو اپنا داماد ماننے سے انکار کرتے ہوئے شاہد کو اپنا داماد تسلیم کیا۔ دوسری جانب ممتاز احمد کا مؤقف ہے کہ شاہد کی مقتولہ سے شادی فیملی کورٹ کے ذریعے ختم ہوچکی تھی۔
عدالت نے حکم دیا کہ شاہد اور ممتاز احمد کے متضاد دعوؤں کی مکمل انکوائری کی جائے اور فریقین کو شواہد پیش کرنے اور جرح کا مناسب موقع دیا جائے۔
سیشن جج بہاولنگر کو تین ہفتوں میں قانونی ورثاء کے تعین کی جامع رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ دفعہ 302 کے مقدمے میں صلح حقیقی قانونی ورثاء کی رضامندی سے مشروط ہے، جبکہ قانونی وارث ہونے کے تنازع پرعدالت کے لیے انکوائری اور شہادتیں ریکارڈ کرنا لازم ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر قتل غیرت کے نام پر ثابت ہو تو صرف ورثاء کی صلح کی بنیاد پر ملزم کی بریت لازم نہیں۔ غیرت کے نام پر قتل ثابت ہونے کی صورت میں دفعہ 311 کے تحت تعزیری سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے سیشن جج بہاولنگر کا فیصلہ کالعدم کیے بغیر معاملہ دوبارہ انکوائری کے لیے واپس بھجوا دیا۔ عدالت کے مطابق مقتولہ کے قانونی شوہر اور حقیقی ورثاء کے تعین کے بعد ہی صلح اور حقِ قصاص سے دستبرداری کا معاملہ طے ہوگا۔
