(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے سکول کے بچے کا چھری سے گلا کاٹنے کے مقدمے میں عمر قید کے ملزم محمد احتشام کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے اپیل منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ صدر بہاولپور پولیس نے 2023 میں مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2024 میں ملزم کو عمر قید اور 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
مدعی کے مطابق تین بجے اس کی بہن کی کال آئی کہ طارق خورشید سکول سے واپس نہیں آیا، جس کے بعد بچے کی تلاش شروع کی گئی۔ مدعی کے مطابق اسی دوران ایک نامعلوم شخص موٹر سائیکل پر آتا دکھائی دیا جس کے کپڑے اور ہاتھ خون آلود تھے۔
فیصلے کے مطابق بچے کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ ملزم مقتول طارق پر بری نظر رکھتا تھا، تاہم اس الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ موقع کے گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا اور لواحقین کی جانب سے عائد الزام ثابت کرنے کے لیے بھی کوئی قابلِ اعتماد مواد موجود نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق وقوعہ کے 13 روز بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے ملزم سے چھری برآمد کی۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے چھری کی برآمدگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا ملزم وقوعہ میں استعمال ہونے والی چھری کو یادگار کے طور پر اپنے پاس رکھے گا؟
لاہور ہائیکورٹ نے شواہد اور گواہوں کے بیانات میں موجود تضادات کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد احتشام کی اپیل منظور کرلی اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید اور جرمانے کی سزا ختم کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
