(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے جڑانوالہ میں کمرشل دکانوں کی نیلامی کے خلاف درخواستوں پر حکومت کی جانب سے جواب جمع کرانے کیلئے مزید مہلت دے دی، عدالت نے حکام کو دکانوں کی نیلامی سے روکنے کے حکم امتناع میں بھی توسیع کر دی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے جڑانوالہ کے دکانداروں کی جانب سے مختلف علاقوں میں کمرشل دکانوں کی مجوزہ نیلامی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل چودھری شعیب سلیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ممبر کالونیز نے صوبائی حکومت کی ملکیتی جائیداد سے متعلق لیز پر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کا اطلاق نہ کرکے قانون کی تشریح میں غلطی کی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے دکانوں کے کرایوں کی مناسب جانچ اور جائزے کے بعد متعلقہ حکام کے ساتھ لیز معاہدے کیے، درخواست گزار کئی دہائیوں سے ان دکانوں میں کاروبار کررہے ہیں اور باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتے رہے ہیں، بعض معاملات میں ادا کیا جانے والا کرایہ نیلامی کیلئے حکام کی جانب سے مقرر کردہ ریزرو کرائے سے بھی زیادہ ہے۔
چودھری شعیب ایڈووکیٹ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے دکانیں اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کیں اور متعلقہ میونسپل کمیٹیوں کے پاس فی کس 5 لاکھ روپے بطور سکیورٹی بھی جمع کرائے۔
وکیل نے کہا کہ موجودہ لیز معاہدوں کے تحت کئی سال تک درخواست گزاروں سے کرایہ وصول کرنے کے بعد متعلقہ حکام معاہدوں سے انکار نہیں کرسکتے، قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 114 کے تحت اقرار اور طرز عمل کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
دوران سماعت سرکاری لا افسر نے درخواستوں پر جوابات جمع کرانے کیلئے مزید مہلت طلب کی۔ لا افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمات مختلف کیٹیگریز سے متعلق ہیں، انہیں کیٹیگری کے لحاظ سے تقسیم کرنے سے حکومت کو یکساں نوعیت کے معاملات میں جوابات تیار کرنے میں سہولت ہوگی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریمارکس دیئے کہ مقدمات کی کیٹیگری بنانے کی ضرورت نہیں، وہ تمام درخواست گزاروں کو سنیں گے تاکہ سب کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے حق میں پہلے سے جاری حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت اکتوبر 2026 تک ملتوی کردی۔
اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے بھی اسی معاملے سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران حکام کو دکانوں کی نیلامی سے روک دیا تھا۔
عدالت نے معاملہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو ازسرنو فیصلہ کرنے کیلئے بھجواتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ لیز معاہدے موجود ہونے کے باوجود حکومت دکانوں کی نیلامی کیوں کرنا چاہتی ہے جبکہ درخواست گزار پہلے ہی نیلامی کیلئے مجوزہ ریزرو کرائے سے زیادہ کرایہ ادا کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔
