(لاہور نیوز) غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گرفتار ملزمان نے پولیس کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیئے ہیں، جبکہ ڈیانا کا طلاق نامہ بھی منظر عام پر آ گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق ڈیانا کی شادی 12 فروری 2025 کو سرائے عالمگیر، جہلم میں ہوئی تھی، طلاق نامے میں شوہر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ ازدواجی زندگی محبت اور الفت کے ساتھ جاری رکھنے سے قاصر ہیں، جس کے بعد بیوی کو تین طلاقیں دینے کی تحریری تصدیق کی گئی، دستاویز میں طلاق کو اسلامی اصولوں اور پاکستانی قانون کے مطابق قرار دیا گیا ہے، جبکہ عدت مکمل ہونے کے بعد ڈیانا کو دوسری شادی کی اجازت کا بھی ذکر موجود ہے۔
دوسری جانب مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔، ملزمہ مسکان کے مطابق ڈیانا سے پہلی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی، جہاں ڈیانا نے مبینہ طور پر آئندہ پارٹیوں میں شرکت کی دعوت دینے کا کہا اور موبائل نمبر شیئر کئے گئے۔
ملزم محسن کے بیان کے مطابق اس کی ڈیانا سے پہلی ملاقات 25 ستمبر کو مسکان اور نمرہ کے ذریعے ایک نجی سوسائٹی میں ہوئی، اس کے بعد وہ ڈیانا، مسکان اور نمرہ کے ساتھ ڈیفنس گیا، جہاں ایک فلیٹ میں وقت گزارا گیا، پولیس کے مطابق ملزمان نے اپنے بیانات میں بتایا کہ بعد ازاں ڈیانا کو گاڑی میں لے جایا گیا، ملزم محسن کے مطابق غازی روڈ پر ڈیانا نے گاڑی میں ہاتھا پائی شروع کر دی اور بعد ازاں مبینہ طور پر گاڑی سے اتر گئی۔
ملزم علی کے بیان کے مطابق صورتحال سے گھبرا کر گاڑی وہاں سے روانہ کر دی گئی، جبکہ ڈیانا کا پرس اور موبائل فون گاڑی میں رہ گیا، ملزم کے مطابق راستے میں موبائل فون اور پرس گاڑی سے باہر پھینک دیئے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق فلیٹ کی نشاندہی کرکے شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں، ملزمان کے بیانات تفتیش کا حصہ ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین عدالت کرے گی۔
