(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے دو ملزمان محمد قاسم عرف کاشو اور محمد طارق کو بری کردیا۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔
سماعت کے دوران ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر ظفر اقبال سومرو اور مدعی مقدمہ پیش ہوئے، تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ پراسیکیوشن ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ قتل کا واقعہ عینی شاہد کے بغیر تھا اور مقدمہ مکمل طور پر حالات و واقعات پر مبنی شواہد پر قائم تھا۔
فیصلے کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج میں تین ماہ 12 دن کی تاخیر نے پراسیکیوشن کے مقدمے کو مشکوک بنا دیا۔ لاش کی مشترکہ نشاندہی پر برآمدگی قانوناً قابل قبول نہیں، جبکہ لاش مکمل طور پر گل سڑ چکی تھی اور اس کی شناخت بھی ممکن نہیں تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ لاش کی شناخت کے لیے ڈی این اے رپورٹ بھی ریکارڈ پر پیش نہیں کی گئی، جبکہ ملزمان سے برآمد موبائل فون کی ملکیت بھی ثابت نہ ہوسکی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ استغاثہ ملزمان کو وقوعہ سے جوڑنے والی ناقابلِ شکست کڑی ثابت نہیں کرسکا۔ شک کا ایک بھی معقول پہلو ملزم کو فائدہ پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے محمد قاسم عرف کاشو اور محمد طارق کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
