(لاہور نیوز) لیسکو سمیت ملک کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈ مینجمنٹ کا نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت بجلی چوری اور کم بل ریکوری والے علاقوں میں پورا فیڈر بند کرنے کے بجائے مخصوص ٹرانسفارمرز کو ٹارگٹ کیا جائے گا، ایسے ٹرانسفارمرز سے منسلک صارفین کی بجلی عارضی طور پر بند کی جائے گی، جبکہ پورے علاقے یا فیڈر کو لوڈ مینجمنٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے لیسکو کے موجودہ فیڈر بیسڈ لوڈ شیڈنگ نظام کو مرحلہ وار ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ میں تبدیل کرنے کی منظوری دی ہے، لیسکو میں فیڈر لیول لوڈ مینجمنٹ ختم کرکے ایک سال کے اندر ٹرانسفارمر لیول نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نئے نظام میں صارفین کی بل ادائیگی کی صورتحال، واجب الادا رقوم، بجلی چوری اور لائن لاسز کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص ٹرانسفارمرز پر لوڈ مینجمنٹ کی جائے گی، اچھے بل ریکوری والے ٹرانسفارمرز سے منسلک صارفین کو غیر ضروری لوڈ مینجمنٹ سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق زیادہ بجلی چوری والے علاقوں میں بھی پورا فیڈر بند نہیں کیا جائے گا بلکہ بجلی چوری سے متاثرہ مخصوص ٹرانسفارمرز کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈ مینجمنٹ سے بجلی چوری اور لائن لاسز کی زیادہ درست نشاندہی ممکن ہو گی اور بجلی کی فراہمی میں ٹارگٹڈ انداز اپنایا جا سکے گا۔
وفاقی حکومت نے تمام ڈسکوز میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ کا فریم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، وفاقی وزیر توانائی نے سیکرٹری پاور ڈویژن کو تمام تقسیم کار کمپنیوں میں ٹرانسفارمر لیول لوڈ مینجمنٹ کا فریم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق فریم ورک مکمل کرنے کیلئے مئی 2027 تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جبکہ لیسکو نوٹیفکیشن کے اجرا کے 30 روز کے اندر ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ کے نفاذ سے متعلق تفصیلی پلان پاور ڈویژن کو پیش کرے گا۔
