اپ ڈیٹس
  • 266.00 انڈے فی درجن
  • 323.00 زندہ مرغی
  • 468.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.80 قیمت فروخت : 278.30
  • یورو قیمت خرید: 316.18 قیمت فروخت : 316.75
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.82 قیمت فروخت : 194.17
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.34 قیمت فروخت : 197.69
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.70 قیمت فروخت : 1.70
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.03 قیمت فروخت : 74.17
  • کویتی دینار قیمت خرید: 902.08 قیمت فروخت : 903.70
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 433500 دس گرام : 371656
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا

27 Jul 2026
27 Jul 2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے نادرا اور شہریت کے تنازعات پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا، جبکہ نادرا کے فیصلوں کے خلاف پہلے قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازم قرار دیتے ہوئے نادار کی اپیل منظور کر لی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قومی شناختی کارڈز اور شہریت کے تنازعات سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مشکوک شہریت کے مقدمات میں براہِ راست سول عدالتوں یا رٹ پٹیشن کے ذریعے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں پہلے نادرا ویریفکیشن بورڈ اور پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت دستیاب قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازمی ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی  نے نادرا کی سول نظرثانی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے سینیئر سول جج سیالکوٹ کے 19 جنوری 2017 اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ کے 23 اگست 2017 کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے نادرا کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے قرار دیا کہ سول عدالتوں کو متبادل قانونی فورمز سے رجوع کئے بغیر ایسے دعوے سننے کا اختیار حاصل نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جن افراد کی شہریت مشکوک قرار دی جائے، وہ پہلے نادرا ویریفکیشن بورڈ سے رجوع کریں، جبکہ اگر پاکستانی شہریت ثابت نہ ہو سکے تو پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت وفاقی حکومت سے شہریت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہو گا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ شہریت کے دعووں میں والد یا دادا کی 1979 سے قبل پاکستان میں رہائش کے مستند ثبوت پیش کرنا لازمی ہو گا، اس مقصد کیلئے 1979 سے پہلے کے تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، پاسپورٹ یا دیگر سرکاری ریکارڈ کو بنیادی شہادت قرار دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جن مقدمات میں مقررہ قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے، ان میں فریقین کو 30 دن کے اندر ضروری دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دی جائے، بصورت دیگر ایسے دعوے خارج کر دیئے جائیں، یہ ہدایت مختلف عدالتوں میں زیر التوا تمام ایسے مقدمات پر بھی لاگو ہو گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید حکم دیا کہ نادرا ویریفکیشن بورڈز شہریوں کی درخواستوں کا فیصلہ 60 دن کے اندر کرنے کے پابند ہوں گے، عدالت نے وفاقی حکومت کو نادرا آرڈیننس میں ترمیم کرکے شہریت سے متعلق مقدمات کیلئے خصوصی دائرہ اختیار کی شق شامل کرنے کی بھی سفارش کی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے