(لاہور نیوز) لاہور میں نقشہ منظوری کے خودکار نظام “ای بز” کو درپیش مسائل کے باعث شہریوں کو تاخیر اور مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کے تحت ون ونڈو سیل پر زیر التوا درخواستوں کا دورانیہ بڑھ کر 18 دن تک پہنچ گیا ہے، جس پر اعلیٰ حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
معلومات کے مطابق ای بز سسٹم پر مناسب توجہ نہ دینے اور کیسز کو غیر ضروری طور پر التوا میں ڈالنے کے باعث چیف سیکرٹری آفس نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے، اسی صورتحال کے باعث متعلقہ اجلاس میں ایل ڈی اے افسران کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں کی درخواستوں کو مختلف دفاتر، خصوصاً ٹاؤن پلاننگ اور ڈائریکٹر آرکیٹیکٹ آفس کے درمیان بار بار منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے منظوری کا عمل مزید سست ہو گیا ہے اور سسٹم میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ایل ڈی اے حکام، آئی ٹی ونگ اور پی آئی ٹی بی کے درمیان بھی باہمی الزام تراشی شروع ہو گئی ہے، جس سے نظامی بہتری کے بجائے پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔
حکام کے مطابق ای بز سسٹم کا مقصد نقشہ منظوری کے عمل کو تیز اور شفاف بنانا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ نظام شہریوں کیلئے سہولت کے بجائے تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔
