(لاہور نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے آج آزادی صحافت کا دن منایا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں صحافیوں کو درپیش خطرات اور چیلنجز عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں، پاکستان سمیت عالمی سطح پر آزاد صحافت جمہوریت اور عوامی شعور کی مضبوط ضمانت ہے۔
آج کا دن منانے کا مقصد پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری کے دوران صحافیوں اور صحافتی اداروں کو درپیش مشکلات، مسائل، دھمکی آمیز رویوں اور زندگی کو درپیش خطرات کے متعلق قوم اور دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔
پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے باوجود ماضی میں اہل صحافت نے پابندیاں اور اسیری کے مختلف ادوار دیکھے ہیں، صحافت کی موجودہ آزادی کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ یہ صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے عقوبت خانوں میں تشدد برداشت کیا، کوڑے کھائے اور پابند سلاسل رہے۔
اس دن کے انعقاد کی ایک وجہ معاشرے کو یہ بھی یاد دلانا ہے کہ عوام کو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرنے کیلئے کتنے صحافی اس دنیا سے چلے گئے اور کئی پس دیوار زندہ ہیں، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق 1992ء سے 2025ء تک 1402 سے زائد صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
فرائض کی انجام دہی کی پاداش میں زندان میں قید کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد بھی کم نہیں، آزادی صحافت کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا ہی ایک باشعور اور مضبوط معاشرے کی ضمانت ہے۔
