اپ ڈیٹس
  • 246.00 انڈے فی درجن
  • 383.00 زندہ مرغی
  • 555.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.85 قیمت فروخت : 40.92
  • یورو قیمت خرید: 327.29 قیمت فروخت : 327.88
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 376.61 قیمت فروخت : 377.29
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 199.54 قیمت فروخت : 199.90
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 204.11 قیمت فروخت : 204.47
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.34 قیمت فروخت : 74.47
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.91 قیمت فروخت : 76.04
  • کویتی دینار قیمت خرید: 910.22 قیمت فروخت : 911.85
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 495100 دس گرام : 424500
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 453838 دس گرام : 389122
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8042 دس گرام : 6902
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
پنجاب گورنمنٹ

ٹیکس سے متعلق کوئی بھی معاملہ اسمبلی میں آنا ضروری ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی

21 Apr 2026
21 Apr 2026

(لاہور نیوز) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ ٹیکس سے متعلق کوئی بھی معاملہ اسمبلی میں آنا ضروری ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان  نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس سے متعلق سیکشن 11 کو اسمبلی میں پیش کرنے پر وہ پہلے ہی رولنگ دے چکے ہیں، اور آئین کے مطابق کسی بھی قسم کی ٹیکسیشن کو اسمبلی سے منظور کروانا لازمی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین میں قانون سازی کا طریقہ کار بالکل واضح ہے، جس کے تحت کابینہ کی منظوری کے بعد ہر ٹیکس سے متعلق معاملہ اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے اور پھر اکثریت کی بنیاد پر اسے منظور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسیشن کسی بھی مد میں ہو، اسے اسمبلی میں لانا ضروری ہے اور آئینی تقاضوں کے مطابق اس پر مکمل ووٹنگ کا عمل بھی ہوتا ہے، اسمبلی کا اختیار کسی اور ادارے کو منتقل نہیں کیا جا سکتا اور یہی بنیادی سوال زیر بحث تھا۔

ملک محمد احمد خان  نے بتایا کہ اس معاملے میں ٹیکس کی شرح یا ریٹس زیر بحث نہیں تھے بلکہ اختیار کا تعین اہم تھا، آئین پاکستان کے مطابق کسی بھی رولز کو ایوان میں پیش کئے بغیر منظور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور کابینہ کو ٹیکس کی شرح اور سلیب کے تعین کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس کی منظوری کیلئے اسمبلی سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے، قانون سازی ہمیشہ اکثریت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

اسپیکر  نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کے معاملے میں 90 فیصد سے زائد کسانوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ غریب طبقے پر بوجھ نہ پڑے، جبکہ بڑے پیمانے پر کاشتکاری کرنے والوں پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔

ملک محمد احمد خان  نے کہا کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ضرور ہے، جن میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی اداروں کی صورتحال بھی شامل ہے، تاہم ٹیکس نظام معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور حالات میں بہتری آئے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے