(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے ازدواجی زندگی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے ازدواجی زندگی میں تشدد اور زیادتی سے متعلق قانون سازی کی درخواست خارج کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے وکیل اریج سہیل کی درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے شادی کے دوران جنسی تشدد سے متعلق علیحدہ قوانین بنانے کی استدعا کی، عدالت نے لکھا کہ شادی کی وجہ سے کسی خاتون کے آئینی حقوق اور انسانی وقار کم نہیں ہوتا، شادی کسی شریک حیات کو دوسرے پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
عدالت نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا آئینی اختیار ہے، عدالتیں پارلیمنٹ کی جگہ خود قانون سازی نہیں کر سکتیں، خواتین کے تحفظ کیلئے پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اسمبلی چاہے تو اس معاملے پر آئین کے مطابق قانون سازی کر سکتی ہے، خواتین کے تحفظ کیلئے قانونی نظام صرف پاکستان پینل کوڈ تک محدود نہیں، خواتین کو گھریلو تشدد اور دیگر اقسام کے تشدد سے بچانے کیلئے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں۔
عدالت نے ازدواجی زندگی میں تشدد اور زیادتی سے متعلق قانون سازی کی درخواست خارج کر دی۔
