(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی میں دو سال بعد لاہور جمخانہ کی کرایہ داری، لیز اور کمرشل آڈٹ کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ 1996 میں وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی ہدایت پر جمخانہ کی لیز کی گئی تھی۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سمیع اللہ خان نے سوال کیا کہ کیا وزیراعلیٰ کی ہدایت میں 5 ہزار روپے کرایہ مقرر کرنے کا بھی ذکر تھا؟ سیکریٹری بورڈ آف ریونیو نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت میں یہ رقم درج نہیں تھی تاہم بورڈ آف ریونیو کے کمشنر کو لکھے گئے خط میں 5 ہزار روپے کا ذکر موجود ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تفصیلات پیش کی جائیں کہ بورڈ آف ریونیو نے 5 ہزار روپے کرایہ کس بنیاد پر مقرر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یا تو کرایے کے معاملے کا فیصلہ کیا جائے یا پھر 5 ہزار روپے کرایہ معاف کرکے تمام تر ذمہ داری کمیٹی پر ڈال دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ اشرافیہ 5 ہزار روپے کرایے کو مناسب سمجھتی ہے۔
اجلاس میں رکن کمیٹی امجد علی جاوید نے کہا کہ اگر جمخانہ سے 52 ارب روپے کرایے کی مد میں وصول کیے جانے ہیں تو یہ معاملہ واضح کیا جائے، بصورت دیگر 65 ہزار دکان مالکان سے رقم طلب نہ کی جائے۔ رکن کمیٹی افتخار حسین چھچھر نے کہا کہ ان کی جمخانہ سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں، وہ صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ریاست بتائے کہ لیز کس طریقے سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ عام آدمی اور اشرافیہ کے لیے قانون مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جمخانہ کی رکنیت لینا بھی اپنے لیے باعثِ شرمندگی سمجھتے ہیں۔
اجلاس میں رکن اسمبلی سید علی حیدر گیلانی نے لاہور جمخانہ کے کمرشل آڈٹ کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سے سوالات کیے۔ ڈی جی آڈٹ نے بتایا کہ لاہور جمخانہ آڈٹ نہیں کروا رہا اور آڈٹ کا معاملہ ہائی کورٹ میں لے جا چکا ہے۔ ان کے مطابق آڈیٹر جنرل نے بھی اس معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے تاہم لاہور جمخانہ کے آڈٹ کا کیس تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا۔
ڈی جی آڈٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ادارے میں سرکاری فنڈز یا عوامی ملکیت کی زمین شامل ہو تو آڈٹ کا اختیار قائم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ادارے کی قانونی حیثیت آڈٹ کے اختیار کا فیصلہ کن معیار نہیں، بلکہ حکومتی یا عوامی وسائل کسی بھی شکل میں شامل ہوں تو آڈیٹر جنرل کا اختیار لاگو ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کلب کا بھی آڈٹ کیا جاتا ہے اور جمخانہ کے آڈٹ کا معاملہ چیف سیکریٹری کے سامنے بھی اٹھایا جا چکا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سمیع اللہ خان نے استفسار کیا کہ کیا جناح باغ کی جگہ پر قائم جمخانہ کو پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کی جانب سے کوئی سہولت فراہم کی جاتی ہے؟ ڈی جی پی ایچ اے پنجاب نے جواب دیا کہ جمخانہ کو گھاس سے متعلق بعض سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
رکن کمیٹی راؤ کاشف رحیم نے سوال کیا کہ جمخانہ میں تعمیرات سے قبل متعلقہ محکمے سے اجازت حاصل کی گئی تھی یا نہیں، جبکہ ذوالفقار علی شاہ نے تعمیرات کی فیسوں کی ادائیگی سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ اس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) لاہور نے بتایا کہ تعمیرات کی اجازت سے متعلق تفصیلات اگلے اجلاس میں پیش کر دی جائیں گی۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری خالد رانجھا نے کہا کہ اگر معاملہ دو پاکستان ختم کرنے کا ہے تو کرایہ داری برقرار رکھنے کے بجائے جگہ واپس لے لینی چاہیے۔ رکن کمیٹی راؤ کاشف نے تجویز دی کہ جمخانہ کمیٹی کو معطل کرکے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جانا چاہیے تاکہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔
چیئرمین کمیٹی سمیع اللہ خان نے کہا کہ تمام ارکان کے سوالات سن لیے گئے ہیں اور ان کے جوابات اگلے اجلاس تک کمیٹی میں پیش کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ وقت تک جوابات نہ آئے تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا جائے گا۔
سمیع اللہ خان نے بتایا کہ اگلے اجلاس میں جمخانہ کمیٹی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ اس کا مؤقف سنا جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر جمخانہ کمیٹی اجلاس میں شریک نہ ہوئی تو بھی کارروائی متاثر نہیں ہوگی، کیونکہ متعلقہ سوالات کے جوابات اداروں نے فراہم کرنے ہیں۔
