اپ ڈیٹس
  • 264.00 انڈے فی درجن
  • 358.00 زندہ مرغی
  • 519.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.39 قیمت فروخت : 41.46
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.10 قیمت فروخت : 277.60
  • یورو قیمت خرید: 317.94 قیمت فروخت : 318.52
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.38 قیمت فروخت : 197.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.54 قیمت فروخت : 197.90
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.77 قیمت فروخت : 73.90
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.45 قیمت فروخت : 75.59
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
پنجاب گورنمنٹ

دھرنوں، احتجاج سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہوتی ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی

09 Oct 2026
09 Oct 2026

(لاہور نیوز) سپیکر پنجاب اسمبلی محمد احمد خان نے کہا ہے کہ دھرنوں اور احتجاج سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہوتی ہے۔

صوبائی دارالحکومت کے ایکسپو سینٹر میں پولٹری سے منسلک اشیاء کی نمائش سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان کا کہنا  تھا کہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے ملکی معیشت بہتر ہوگی اور لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کاروبار کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے ناگزیر ہے، سیاسی مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے، تمام سیاسی قوتوں کو بات چیت کے لیے آگے آنا چاہیے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا  کہ نمائش میں آ کر انہیں خوشی ہوئی ہے، کیونکہ یہاں ایک بڑی معاشی سرگرمی جاری ہے اور اس میں صرف سرمایہ کار ہی نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہیں، اس طرح کی سرگرمیوں سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے اور کاروباری مواقع بڑھتے ہیں۔

محمد احمد خان نے کہا کہ آنے والے وقت میں ہر شعبے میں کاروبار کے مزید مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، کاروبار ترقی کرے گا تو معیشت مضبوط ہوگی اور لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی۔

انہوں نے زور دیا کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور غربت کے خاتمے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل ضروری ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے سیاسی احتجاج اور دھرنوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عدم استحکام سے کاروبار متاثر ہوتا ہے، شاہراہیں اور موٹرویز بند ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جبکہ احتجاج کے باعث کئی اسکول بھی کئی دنوں سے بند پڑے ہیں، دھرنوں کے دن نکال دیے جائیں تو گزشتہ دو سے تین سال کی مدت کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان سرگرمیوں نے کتنا وقت متاثر کیا۔

محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا سیاسی حق ہے جس کے نتیجے میں کاروبار اور سکول بند ہو جائیں؟ احتجاجی جلوس بعض اوقات لڑائی جھگڑے اور مارکٹائی تک پہنچ جاتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ جب کاروباری حلقوں میں خوف و ہراس ہوگا تو کاروبار کیسے چلے گا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض احتجاجی مظاہروں کے دوران فوجی تنصیبات، کور کمانڈر ہاؤس اور چھاؤنیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ 2014 سے اب تک ملک ایسے حالات کا سامنا کرتا رہا ہے، انہوں نے سیاسی مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افرادی قوت کا مظاہرہ کرنا ہی مقصد ہو تو وہ اپنے گاؤں اور کھڈیاں جیسے علاقے میں بھی ایک گھنٹے کے نوٹس پر بڑی تعداد میں لوگ جمع کر سکتے ہیں، تاہم، ان کے بقول، اصل ضرورت لوگوں کو جمع کرنے کے بجائے ملک کے مسائل حل کرنے کی ہے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں، تمام متعلقہ سیاسی رہنماؤں کو بات چیت کے لیے آگے آنا چاہیے، کیونکہ طاقت کے ذریعے کسی بات کو منوانا ممکن نہیں، احتجاج اور تصادم کی سیاست سے سیاسی قوتیں اپنی گنجائش خود محدود کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر بڑے معاہدے کر رہا ہے اور پاکستانی فوج کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب حکومت کے منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات کی قدر کرتے ہیں، انہوں نے اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کو قابل ستائش منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ پنجاب حکومت کو ہاؤسنگ اسکیم پر حال ہی میں ایوارڈ بھی ملا ہے۔

ملک محمد احمد خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسٹیٹس مین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت پورے پاکستان کو ایک ہی شخصیت سے توقعات وابستہ ہیں اور وہ میاں نواز شریف ہیں، انہوں نے محمود اچکزئی کے اس بیان کو بھی سراہا کہ وہ نواز شریف سے بات کریں گے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا اور غربت کا خاتمہ قومی ترجیح ہونی چاہیے، اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قوتیں محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور ملک میں کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے