(لاہور نیوز) جان لیوا ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے سی ٹی او نے حادثات میں غیر متناسب طور پر ملوث گاڑیوں کی کیٹگری وائز نگرانی اور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق شہر میں 82 لاکھ 60 ہزار سے زائد وہیکلز رجسٹرڈ ہیں، تاہم بعض گاڑیوں کی تعداد کم ہونے کے باوجود جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق ٹریکٹر ٹرالیاں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کا صرف 0.9 فیصد ہیں لیکن جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت 10 فیصد ریکارڈ ہوئی، اسی طرح ٹرک اور ڈمپر کل رجسٹرڈ گاڑیوں کا 0.6 فیصد ہیں، مگر جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت 10 فیصد رہی، یعنی رجسٹرڈ تعداد کے مقابلے میں یہ گاڑیاں 18 گنا زیادہ حادثات میں ملوث پائی گئیں۔
پک اپ گاڑیاں کل رجسٹرڈ وہیکلز کا 0.5 فیصد ہیں لیکن جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت اپنے حجم سے 8 گنا زیادہ رہی۔ کوچ، بس، کوسٹر اور فلائنگ کوچ مجموعی گاڑیوں کا 0.7 فیصد ہیں جبکہ جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت 7 فیصد ریکارڈ ہوئی۔
اعدادوشمار کے مطابق چنگ چی رکشے کل رجسٹرڈ گاڑیوں کا 1.7 فیصد ہیں جبکہ جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت 6 فیصد رہی، کاریں مجموعی رجسٹرڈ وہیکلز کا 21.8 فیصد ہیں اور حادثات میں ان کی شمولیت 26 فیصد ریکارڈ ہوئی۔
موٹر سائیکلیں شہر کی کل رجسٹرڈ گاڑیوں کا 68.6 فیصد ہیں جبکہ جان لیوا حادثات میں ان کی شمولیت 72 فیصد ریکارڈ ہوئی، اے پی وی گاڑیوں کی تعداد صرف 0.4 فیصد ہے لیکن حادثات میں ان کی شمولیت اپنے حجم سے 5 گنا زیادہ رہی، منی ٹرک بھی اپنے رجسٹرڈ حجم کے مقابلے میں 5 گنا سے زائد حادثات میں ملوث پائے گئے۔
سی ٹی او کی جانب سے جان لیوا حادثات میں ملوث گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس، روٹ پرمٹس اور ڈرائیونگ لائسنس چیک کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لائسنس اور گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کی بھی خصوصی جانچ کی جائے گی۔
