(لاہور نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کا حل صرف نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے میں نہیں، بلکہ مؤثر انتظامی صلاحیت، آئین و دستور کی بالادستی اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی میں ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ریاست کو طاقت کی بنیاد پر چلانے کے تجربات جہاں بھی کئے گئے، وہاں نتائج پہلے سے زیادہ خراب ہوئے، جب تک انتظامی صلاحیت موجود نہ ہو اور ریاستی نظام کو آئین اور عمرانی معاہدے کی رہنمائی میں نہ چلایا جائے، عوام مطمئن نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ صحت، تعلیم، صنعت اور زراعت کی ترقی کے ساتھ عام آدمی کو بنیادی سہولیات اور مناسب قیمتوں تک رسائی فراہم کرے، جب سرکاری محکمے اور ادارے عوام کیلئے سہولت کے بجائے عذاب بن جائیں تو حالات مزید خراب ہوتے ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ معاشی استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مرکز و صوبوں کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے آئینی اداروں، بالخصوص مشترکہ مفادات کونسل، کو مؤثر بنانا ہو گا، حکومتوں کے ماڈل نقل نہیں کئے جا سکتے، ملکی حالات کے مطابق اپنی سمت کا تعین کرنا ہو گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا غیر آئینی نہیں، تاہم اس مقصد کیلئے ایسا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہئے جس سے ریاست میں مزید تنازع پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو شہری حقوق کی فراہمی اور مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کیلئے بااختیار بلدیاتی نظام ناگزیر ہے، کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک ایسا بااختیار بلدیاتی نظام نافذ نہیں کیا جس سے عوام کو حقیقی طور پر اختیارات منتقل ہوں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ تمام جمہوری قوتوں کے مل کر آمرانہ نظام گرانے کا فارمولا پرانا ہو چکا ہے، اب قومی ڈائیلاگ کے ذریعے قومی ترجیحات کا تعین کیا جانا چاہئے، بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی بحران سے ملک دوبارہ صفر پر آ جاتا ہے، اس سلسلے کو ختم کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بار بار غلطیاں ہو چکی ہیں، اب قومی قیادت اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی روش پر نظرثانی کرنا ہو گی، سیاسی بحران کا حل نکالنا ضروری ہے اور مینڈیٹ کی چوری اور ہوسِ اقتدار کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جو فریق مطالبات یا احتجاج کے ذریعے راستہ روکنے پر اصرار کر رہے ہیں، انہیں ضد سے گریز کرنا چاہئے، بصورت دیگر ریاست کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ نظام کی بہتری کیلئے بیماری کی جڑ کو پکڑنا ضروری ہے، جب تک مسائل کی بنیادی وجوہات کا علاج نہیں کیا جائے گا، معاملات اصلاح کی طرف نہیں آئیں گے اور حالات کو مستقل بنیادوں پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
