اپ ڈیٹس
  • 264.00 انڈے فی درجن
  • 338.00 زندہ مرغی
  • 490.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.39 قیمت فروخت : 41.46
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.10 قیمت فروخت : 277.60
  • یورو قیمت خرید: 317.94 قیمت فروخت : 318.52
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.38 قیمت فروخت : 197.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.54 قیمت فروخت : 197.90
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.77 قیمت فروخت : 73.90
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.45 قیمت فروخت : 75.59
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

شریک مالک مشترکہ جائیداد میں من مانی نہیں کرسکتا: لاہور ہائیکورٹ

02 Oct 2026
02 Oct 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے مشترکہ جائیداد سے متعلق اہم عدالتی نظیر جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شریک مالک کی جانب سے مشترکہ جائیداد کی نوعیت تبدیل کرنے یا اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کے خلاف مستقل حکمِ امتناعی کا دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔

سنگل بنچ نے محمد اشتیاق و دیگر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی شریک مالک اسے یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کرسکتا، جبکہ راستہ بنانے کی کوشش کے خلاف حکمِ امتناعی کی درخواست بھی قابلِ سماعت ہے۔

فیصلے کے مطابق حکمِ امتناعی حاصل کرنے کے لیے مشترکہ جائیداد کو نقصان پہنچانے والے عمل کا ثبوت دینا ضروری ہے۔ محض شریک مالک ہونا جائیداد کے کسی مخصوص حصے پر خصوصی ملکیت کا حق نہیں دیتا، خصوصی حق کے دعوے کے لیے تقسیمِ جائیداد کا قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سابقہ مقدمے میں دیے گئے کسی بیان کو موجودہ کیس میں استعمال کرنے سے پہلے اس کے متعلقہ حقائق ثابت کرنا ضروری ہیں۔ سابقہ مقدمے کا ریکارڈ درخواست گزار کے وکیل کے بیان کے ذریعے پیش کیا گیا، جسے ماتحت عدالتوں نے بنیاد بنا کر حکمِ امتناعی جاری کیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ شریک مالک کے خلاف حکمِ امتناعی کے لیے الزام کی بنیاد ثابت کرنا لازمی ہے، جبکہ شواہد کی بنیاد قائم کیے بغیر دیا گیا فیصلہ نظرثانی کے اختیار کے تحت درست کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔ ہائیکورٹ نے متعلقہ فریقین کو متنازع راستے اور سابقہ مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا موقع دینے کی بھی ہدایت کردی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے