(لاہور نیوز) وفاقی حکومت کی پٹرول سبسڈی سکیم میں معذور افراد کی شمولیت اور رجسٹریشن سے متعلق اہم نکات سامنے آ گئے ہیں۔
فی لٹر سبسڈی اور ماہانہ ریلیف کی سہولت کے باوجود غیر رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں اور تھری ویلر گاڑیوں کے حوالے سے سکیم کے دائرہ کار پر سوالات موجود ہیں، موجودہ نظام کے مطابق سبسڈی ایپ میں سپیشل پرسنز کیلئے الگ رجسٹریشن آپشن موجود نہیں، جبکہ پنجاب میں معذور افراد کی ایک بڑی تعداد مخصوص گاڑیوں کے ذریعے نقل و حرکت کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایکسائز اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں رجسٹرڈ نہ ہونے والی تھری ویلر گاڑیاں بھی موجودہ حکومتی ریلیف میکانزم میں شامل نہیں ہو سکیں گی، اس کے نتیجے میں پنجاب میں معذور افراد کیلئے استعمال ہونے والی مخصوص تھری ویلر گاڑیاں، رجسٹریشن نہ ہونے کی صورت میں، موجودہ نظام کے تحت سبسڈی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔
موجودہ حکومتی ایپلیکیشن کا نظام بنیادی طور پر رجسٹرڈ نجی موٹرسائیکلوں تک محدود ہے، جس کے باعث مختلف نوعیت کی گاڑیاں استعمال کرنے والے بعض مستحق افراد کو ریلیف کے حصول میں مشکلات پیش آنے کا خدشہ ہے۔
سبسڈی پالیسی میں ڈیٹا اور رجسٹریشن سے متعلق خلا کے باعث بعض مستحق طبقات کی شمولیت متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اس صورتحال میں سبسڈی سکیم کے دائرہ کار اور رجسٹریشن کے طریقہ کار پر مزید وضاحت کی ضرورت سامنے آئی ہے۔
متعلقہ امور میں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اسپیشل وہیکلز کو حکومتی سبسڈی فریم ورک میں کس طریقہ کار کے تحت شامل کیا جائے گا اور غیر رجسٹرڈ مخصوص تھری ویلر گاڑیوں کے مالکان کیلئے رجسٹریشن یا تصدیق کا کیا نظام ہو گا۔
