(لاہور نیوز) مالی سال 2026-27 کے دوسرے ماہ ستمبر کے تیسرے ہفتے بھی ملک میں مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار رہا، اور حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی رفتار میں 0.99 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکومتی ادارہ شماریات کے جاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 10.64 فیصد سے بڑھ کر 11.92 فیصد ہو گئی، ایک ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 21 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے بجلی کی قیمت میں 18.76 فیصد، دال مسور 0.75 فیصد، دال چنا 0.34 فیصد اور لہسن کی قیمت میں 1.57 فیصد اضافہ ہوا۔
اسی طرح ایل پی جی کی قیمت 1.55 فیصد، واشنگ سوپ 0.59 فیصد، مٹن 0.31 فیصد، بیف 0.30 فیصد، چکن 0.72 فیصد، انڈے 2.02 فیصد، دودھ 0.14 فیصد، دہی 0.27 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 0.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران چینی کی قیمت میں 0.23 فیصد، آلو 8.33 فیصد، پیاز 2.42 فیصد، ٹماٹر 13.45 فیصد، سرسوں کا تیل 0.04 فیصد، گڑ 0.01 فیصد، نمک پاوڈر 0.90 فیصد، پٹرول 0.34 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.57 فیصد اور کیلے کی قیمت میں 5.66 فیصد کمی ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 0.85 فیصد اضافے کے ساتھ 9.69 فیصد رہی۔
17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 1.28 فیصد اضافے کے ساتھ 11.37 فیصد، جبکہ 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 9.85 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 0.62 فیصد اضافے کے ساتھ 10.20 فیصد رہی، جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 0.85 فیصد اضافے کے ساتھ 12.31 فیصد ہوگئی۔
