اپ ڈیٹس
  • 247.00 انڈے فی درجن
  • 308.00 زندہ مرغی
  • 447.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.35 قیمت فروخت : 41.41
  • یورو قیمت خرید: 322.65 قیمت فروخت : 323.23
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.83 قیمت فروخت : 376.50
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 200.14 قیمت فروخت : 200.50
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 200.81 قیمت فروخت : 201.17
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.86 قیمت فروخت : 74.00
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

18کروڑ روپے کی ادائیگی سے متعلق ثالثی ایوارڈ کے خلاف درخواست خارج

16 Sep 2026
16 Sep 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے 18 کروڑ روپے کی ادائیگی سے متعلق ثالثی ایوارڈ کے خلاف دائر رٹ درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔

عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کی رضامندی سے ہونے والے ثالثی فیصلے کو براہِ راست آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جاسکتا، ثالثی ایوارڈ کے خلاف قانون میں متبادل قانونی راستہ موجود ہے۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے شہری حاجی محمد اسماعیل کی حکومت پنجاب اور دیگر کے خلاف دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا۔

درخواست گزار نے پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی سے متعلق سیکرٹری خزانہ پنجاب کی جانب سے بطور ثالث جاری کیے گئے ایوارڈ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ثالثی ایوارڈ کے تحت 18 کروڑ روپے کی ادائیگی سے متعلق فیصلہ کیا گیا، جسے وہ ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار میں چیلنج کرنا چاہتا ہے۔دورانِ سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عثمان خان نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ثالثی ایوارڈ سے متعلق سول کورٹ میں پہلے ہی کارروائی زیرِ التوا ہے اور ایوارڈ کو رول آف دی کورٹ بنانے کی کارروائی جاری ہے، جس میں فریقین کو نوٹسز بھی جاری ہوچکے ہیں۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ درخواست گزار نے خود ڈویژن بینچ کے سامنے سیکرٹری خزانہ پنجاب کو ثالث تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور ثالثی کی کارروائی میں بھی حصہ لیا۔عدالت نے قرار دیا کہ جو فریق خود ثالثی پر رضامند ہو اور ثالثی کارروائی میں حصہ لے، وہ فیصلہ اپنے خلاف آنے کے بعد براہِ راست ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار سے رجوع نہیں کرسکتا۔

تحریری فیصلے کے مطابق ثالثی ایوارڈ کو چیلنج کرنے کے لیے قانون میں متبادل قانونی راستہ موجود ہے اور اس مقصد کے لیے سول کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ثالثی فیصلے کے خلاف براہِ راست آئینی درخواست قابلِ سماعت نہیں۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ثالثی کارروائی میں حصہ لینے کے بعد فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں فریق آئینی دائرہ اختیار استعمال کرکے ثالثی ایوارڈ کو براہِ راست چیلنج نہیں کرسکتا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے