(ویب ڈیسک) انگلینڈ میں ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں عبرتناک شکست کے بعد قومی سکواڈ سے دوران سیریز سات کھلاڑیوں کو نکالنے پر سابق کرکٹرز نے پی سی بی پر کڑی تنقید کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اس فیصلے پر سابق کرکٹرز کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
پاکستان کو 2011 کے ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک لے جانے والے کپتان شاہد آفریدی نے کہا اس فیصلے کی منطق سمجھ نہیں آئی، یہاں تک کہ متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے؟ یہ کیسی سوچ اور کیسا طرزِ عمل ہے؟
شاہد آفریدی نے سوال اٹھایا کہ محض 5 ٹیسٹ میچوں کے بعد کوچ کو کیوں ہٹا دیا گیا؟
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اتنے سارے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے زیادہ حیران کن فیصلہ ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اولین ایڈیشن میں پاکستان کو فائنل تک لے جانے والے کپتان شعیب ملک نے کہا کہ سکواڈ سے ڈراپ کیے جانے والے کھلاڑی اب بھی ہمارے قومی کرکٹرز ہیں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کے لیے ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسے جملے توہین آمیز ہیں۔
شعیب ملک نے کہا کہ احتساب کا آغاز کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے نظام کو خراب کیا، بینچ پر بیٹھے یا صرف دو، تین ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑیوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ احتساب کا عمل بھی دورے کے اختتام پر شروع ہونا چاہیے تھا۔
شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہر خراب میچ کے بعد کھلاڑیوں کو اس قسم کے ذہنی دباؤ اور تنقید کا سامنا نہیں کرنا چاہیے، ورنہ ناکامی کا خوف ہمارے کھلاڑیوں کے ذہنوں میں بس جائے گا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کا بیڑا غرق کردیا ہے، کسی کو کسی کی عزت کی پروا نہیں ہے۔
واضح رہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تیسرے ٹیسٹ سے قبل اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا جبکہ کوچنگ سٹاف میں بھی اہم ردوبدل کیا گیا ہے۔
