(لاہور نیوز) پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا، اگست 2026 میں مجموعی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے تحت اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی، ماہانہ بنیاد پر اگست 2026 میں مہنگائی کی شرح 1.2 فیصد پر برقرار رہی، جبکہ اگست 2025 میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی اگست 2026 میں سالانہ بنیاد پر 10.4 فیصد بڑھی، جو جولائی میں 8.7 فیصد اور اگست 2025 میں 3.5 فیصد تھی۔ شہری علاقوں میں ماہانہ مہنگائی اگست میں 0.9 فیصد بڑھی، جبکہ جولائی میں یہ اضافہ 1.2 فیصد اور اگست 2025 میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔
دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 12.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 9.9 فیصد اور اگست 2025 میں 2.5 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر دیہی مہنگائی میں اگست کے دوران 1.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی میں 1.2 فیصد اضافہ اور اگست 2025 میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
حکومت نے اگست 2026 کے ماہانہ اقتصادی جائزے میں پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتوں کے دباؤ کے باعث مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کے درمیان بلند رہ سکتی ہے۔
اقتصادی جائزے کے مطابق جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں سے متعلق خطرات بدستور موجود ہیں، جن کے مہنگائی اور بیرونی کھاتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
جائزے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2027 میں معاشی استحکام برقرار رکھنے اور شرح نمو کی رفتار جاری رکھنے کے لیے محتاط میکرو اکنامک انتظام اور اصلاحات کا تسلسل ضروری ہوگا۔
حکومت کے مطابق پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے پالیسی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزید مضبوط بنایا جاسکے اور میکرو اکنامک استحکام کے ثمرات برقرار رکھے جا سکیں۔
