اپ ڈیٹس
  • 267.00 انڈے فی درجن
  • 313.00 زندہ مرغی
  • 454.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.08 قیمت فروخت : 41.15
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.70 قیمت فروخت : 278.20
  • یورو قیمت خرید: 318.01 قیمت فروخت : 318.58
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 370.67 قیمت فروخت : 371.34
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.17 قیمت فروخت : 193.52
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.64 قیمت فروخت : 197.99
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.97 قیمت فروخت : 74.10
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.61 قیمت فروخت : 75.75
  • کویتی دینار قیمت خرید: 902.21 قیمت فروخت : 903.83
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تعلیم

پی ایم ڈی سی کا افغانستان سے میڈیکل ڈگری رکھنے والے طلبہ کیلئے بڑا اعلان

01 Aug 2026
01 Aug 2026

(ویب ڈیسک) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں سے ڈگری حاصل کرنے والے پاکستانی شہری نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (این آر ای) میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے، اس لیے وہ پاکستان میں بطور ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ رجسٹریشن اور پریکٹس بھی نہیں کر سکیں گے۔

پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری پبلک نوٹس کے مطابق بیرون ملک سے میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم مکمل کرنے والے تمام پاکستانی گریجویٹس کے لیے پاکستان میں رجسٹریشن سے قبل نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن پاس کرنا لازمی ہے۔

کونسل کے مطابق صرف وہی امیدوار این آر ای میں شرکت کے اہل ہوں گے جنہوں نے اپنی بنیادی میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری ایسے غیر ملکی اداروں سے حاصل کی ہو جو ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ECFMG) کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل ہوں اور دیگر تمام مقررہ شرائط بھی پوری کرتے ہوں۔

پی ایم ڈی سی نے کہا کہ افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل ادارے اس وقت ای سی ایف ایم جی کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں، لہٰذا وہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ این آر ای، پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور پاکستان میں طب و دندان سازی کی پریکٹس کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

کونسل نے افغانستان میں زیر تعلیم یا وہاں داخلے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مستقبل کے پیشہ ورانہ تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں، کیونکہ مقررہ اہلیت کے معیار میں کسی قسم کی رعایت یا خصوصی استثنا نہیں دیا جائے گا۔ یہ پبلک نوٹس طلبہ کو مستقبل میں ممکنہ مشکلات سے آگاہ کرنے اور عوامی مفاد کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے