اپ ڈیٹس
  • 257.00 انڈے فی درجن
  • 353.00 زندہ مرغی
  • 512.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.05 قیمت فروخت : 41.12
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.75 قیمت فروخت : 278.25
  • یورو قیمت خرید: 317.53 قیمت فروخت : 318.10
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 371.97 قیمت فروخت : 372.64
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.49 قیمت فروخت : 195.29
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.53 قیمت فروخت : 197.89
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.02 قیمت فروخت : 74.15
  • کویتی دینار قیمت خرید: 902.68 قیمت فروخت : 904.31
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 433500 دس گرام : 371656
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کیلیے جدید سیکیورٹی نظام ناگزیر

26 Jul 2026
26 Jul 2026

(ویب ڈیسک) پاکستان میں آن لائن فراڈ اورسائبر اسکیمز میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ماہرین نے بینکاری شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے وسیع استعمال پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی مشکوک مالی لین دین کی بروقت نشاندہی اورروک تھام کے ذریعے صارفین اور مالیاتی اداروں کو بڑے نقصانات سے بچاسکتی ہے۔

بینکنگ محتسب پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق بینکاری فراڈسے متعلق شکایات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، سال 2025 کے دوران ایسی شکایات کی تعداد 4,615 تک پہنچ گئی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 4,171 اور 2023 میں 3,489 تھی، جو سائبر جرائم میں تشویشناک اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے پاکستان فنانشل انکلوژن انڈیکس (P-FII) 2024 کے مطابق مالی شمولیت کااشاریہ 54۔8 سے بڑھ کر 58۔1 ہوگیا،جبکہ بالغ آبادی میں بینک اکاؤنٹس رکھنے والوں کاتناسب 67 فیصد تک پہنچ چکاہے، تاہم کوالٹی کااشاریہ 43۔9 پر برقرار ہے، جو خدمات کے معیار،مالیاتی آگاہی اور سائبرسیکیورٹی میں موجودخامیوں کی نشاندہی کرتاہے۔

 

ماہرین کاکہناہے کہ ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کے ساتھ سائبر حملوں، فشنگ، شناختی چوری، ادائیگیوں میں فراڈاور اکاؤنٹس پر غیرقانونی قبضے جیسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، اس لیے جدیدسیکیورٹی نظام ناگزیر ہوچکے ہیں۔

اے آئی کوالٹی انجینئرنگ کے ماہرمحمد ولید کے مطابق مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی نظام لاکھوں مالی لین دین کاحقیقی وقت میں تجزیہ کرکے غیرمعمولی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کر سکتے ہیں،جس سے روایتی نگرانی کے مقابلے میں فراڈکی زیادہ مؤثر طریقے سے روک تھام ممکن ہوتی ہے

انہوں نے کہاکہ بینکوں، ریگولیٹرز،ڈیجیٹل مالیاتی اداروں اوردیگر متعلقہ فریقوں کو اے آئی پر مبنی فراڈ مانیٹرنگ نظام اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنی تکنیکی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرناچاہیے، تاکہ بدلتے ہوئے سائبرخطرات کامؤثر اندازمیں مقابلہ کیاجاسکے۔

سائبرسیکیورٹی کمپنی سی ٹی ایم 360 کے مطابق پاکستان میں 2019 سے 2023 کے درمیان فشنگ حملوں میں دس گنااضافہ ہوا،جبکہ مال ویٔر، چوری شدہ اسناداور ادائیگیوں کے ڈیٹاسے متعلق دیگرسائبرخطرات میں بھی 8 گنااضافہ ریکارڈکیاگیا۔

 

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے