اپ ڈیٹس
  • 254.00 انڈے فی درجن
  • 348.00 زندہ مرغی
  • 504.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.01 قیمت فروخت : 41.09
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.80 قیمت فروخت : 278.30
  • یورو قیمت خرید: 316.87 قیمت فروخت : 317.44
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 371.79 قیمت فروخت : 372.45
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.44 قیمت فروخت : 194.79
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.94 قیمت فروخت : 197.30
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.70 قیمت فروخت : 1.71
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.01 قیمت فروخت : 74.14
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.64 قیمت فروخت : 75.78
  • کویتی دینار قیمت خرید: 902.97 قیمت فروخت : 904.60
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 433500 دس گرام : 371656
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

موٹروے اجتماعی زیادتی کیس: مجرمان کی اپیلیں مسترد، سزائے موت برقرار

22 Jul 2026
22 Jul 2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے سنسنی خیز مقدمے میں مجرم عابد علی اور شفقت عرف بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے، میڈیکل اور فرانزک شواہد نے ملزمان کے جرم کو بلا شبہ ثابت کر دیا ہے۔

جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ متاثرہ خاتون کا بیان نہایت اہم اور قابل اعتماد شہادت ہے، جس کی تائید میڈیکل، فرانزک اور دیگر سائنسی شواہد سے بھی ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے رپورٹ سے مجرم عابد علی کا جرم ثابت ہوا، جبکہ گاڑی سے حاصل کیے گئے خون کے نمونوں کا ڈی این اے بھی ملزم سے مطابقت رکھتا ہے، فیصلے کے مطابق فرانزک شواہد نے استغاثہ کے مقدمے کو مزید مضبوط بنایا اور شناخت پریڈ کے دوران دونوں ملزمان کی درست شناخت بھی ہوئی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے خاتون اور اس کے بچوں کو زبردستی گاڑی سے نکال کر سنگین جرم کا ارتکاب کیا، جو نا صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنا، عدالت نے قرار دیا کہ ایسے گھناؤنے جرم میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت جرم کی نوعیت اور سنگینی کے عین مطابق ہے، اس لیے اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں، عدالت نے ریاست کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیل بھی مسترد کرتے ہوئے مجرمان کو دی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے