لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سکولوں، پارکوں، مساجد اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص اراضی کو کمرشل یا گھریلو مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے قرار دیا کہ سہولتی اراضی عوامی امانت ہے اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) بھی اسے من مانی سے استعمال کرنے کی مجاز نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ایگرریکس کی آئینی درخواست پر 23 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایل ڈی اے کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سکول کے لیے مختص اراضی کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ متعلقہ اراضی کو تین ماہ کے اندر قانون کے مطابق الاٹ، لیز یا نیلام کیا جائے تاکہ وہاں صرف سکول قائم کیا جا سکے اور عوام کو تعلیمی سہولت میسر آ سکے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سکول کے لیے مختص اراضی صرف سکول کے قیام اور عوامی مفاد کے لیے استعمال ہوگی، عدالت نے آبزرویشن دی کہ 30 برس گزرنے کے باوجود سکول کی سہولت فراہم نہ ہونا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایل ڈی اے سکول کا نقشہ منظور نہیں کر رہا اور سہولتی اراضی اپنے نام منتقل کرانا چاہتا ہے، حالانکہ 1987 میں ہاؤسنگ سکیم کی منظوری کے وقت ایسی کوئی قانونی شرط موجود نہیں تھی، درخواست میں ایل ڈی اے ایکٹ کی دفعہ 13(6) اور متعلقہ قواعد کو بھی غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
دوسری جانب ایل ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ سوسائٹی نے خود مارگیج ڈیڈ کو ٹرانسفر ڈیڈ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی اور ہاؤسنگ سکیم کی منظوری کے لیے سہولتی اراضی ایل ڈی اے کے نام منتقل کرنا قانونی تقاضا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی منصوبہ بندی اور ترقیاتی معاملات میں ایل ڈی اے کے قوانین کی پابند ہیں اور محض کوآپریٹو سوسائٹی کے طور پر رجسٹریشن انہیں ایل ڈی اے قوانین سے استثنا نہیں دیتی، عدالت نے قرار دیا کہ ایل ڈی اے بطور ریگولیٹر منظوری کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا اختیار رکھتا ہے۔
ہائیکورٹ نے ایل ڈی اے ایکٹ کی دفعہ 13(6) اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم رولز 2014 کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اگر مستقبل میں ایل ڈی اے سہولتی اراضی کو اس کے اصل مقصد کے برعکس استعمال کرے تو ایسے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
