اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 271.00 زندہ مرغی
  • 392.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.06 قیمت فروخت : 41.13
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.25 قیمت فروخت : 278.75
  • یورو قیمت خرید: 321.33 قیمت فروخت : 321.91
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.46 قیمت فروخت : 373.13
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.49 قیمت فروخت : 199.85
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.90
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.76 قیمت فروخت : 907.39
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

ایکسپورٹ گروتھ ہی خوشحالی کا راستہ، شرح سود 5 فیصد تک لانا ہوگی: گوہر اعجاز

13 Jun 2026
13 Jun 2026

(لاہورنیوز) سابق وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ کی تیاری کے لیے بھرپور محنت کی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف و وزیر خزانہ نے معیشت کو متحرک کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ’’ٹونائٹ ود ثمر عباس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے حکومت نے مثبت اقدامات کیے ہیں، جو معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارتی محاذ پر دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے، تاہم ملک کی حقیقی خوشحالی کا راستہ ایکسپورٹ گروتھ سے ہو کر گزرتا ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ چار فیصد معاشی شرح نمو حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی محنت درکار ہوگی۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ابھی معاشی نمو کے ہدف کے حوالے سے مکمل طور پر پراعتماد نہیں۔

انہوں نے شرح سود کو معیشت کا اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے جنگی حالات کے باوجود شرح سود میں اضافہ نہیں کیا، جبکہ پاکستان کو شرح سود کم کرکے پانچ فیصد تک لانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سود کی مد میں بھاری ادائیگیوں کا سامنا ہے اور قومی معیشت کا بڑا مسئلہ یہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ زیادہ شرح سود کے ذریعے مہنگائی کو کیسے مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

سابق وزیر تجارت نے کہا کہ حکومت جتنا زیادہ ٹیکس اکٹھا کرتی ہے، اس کا بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے، اس لیے وقت آ گیا ہے کہ اقتصادی پالیسیوں پر نظرثانی کر کے انہیں زیادہ مؤثر بنایا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار معاشی استحکام اور ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور کاروباری ماحول کی بہتری ناگزیر ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے