اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 271.00 زندہ مرغی
  • 392.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.06 قیمت فروخت : 41.13
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.25 قیمت فروخت : 278.75
  • یورو قیمت خرید: 321.33 قیمت فروخت : 321.91
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.46 قیمت فروخت : 373.13
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.49 قیمت فروخت : 199.85
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.90
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.76 قیمت فروخت : 907.39
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کیلئے پنجاب کا نیا روڈ میپ تیار

13 Jun 2026
13 Jun 2026

(لاہورنیوز) یورپی یونین تک پاکستان کی ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت نے نئے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت ایک جامع روڈ میپ تیار کر لیا ہے، جس میں ترقیاتی منصوبوں، ماحولیات، توانائی، ویسٹ مینجمنٹ اور بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یورپی یونین کے نئے جی ایس پی پلس نظام کے تحت پاکستان کو سہولت برقرار رکھنے کے لیے 32 عالمی کنونشنز پر عملدرآمد کرنا ہوگا، نئے فریم ورک میں پہلے کے 27 معاہدوں کے مقابلے میں پانچ نئے عالمی کنونشنز بھی شامل کیے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو عالمی ماحولیاتی تقاضوں اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، اس سلسلے میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) بورڈ کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔

پیرس معاہدے کے تحت ستمبر 2026 سے جون 2027 تک موسمیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو بھی مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

روڈ میپ کے مطابق ترقیاتی سکیموں کی منظوری کے دوران جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے، اس کے علاوہ توانائی بچت، ماحول دوست انفراسٹرکچر اور مونٹریال پروٹوکول کے تحت توانائی مؤثر منصوبوں کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

حکومت نے صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر کو ترقیاتی ترجیحات میں شامل کرنے، صنعتی فضلے اور کچرے سے متعلق منصوبوں کی جانچ میں نئے ماحولیاتی معیارات اپنانے اور زرعی ترقیاتی سکیموں میں بایو سیفٹی اصولوں پر عملدرآمد کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

دستاویز کے مطابق صنعتی اور زرعی شعبوں میں ماحول دوست سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کو جی ایس پی پلس ترجیحات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے 2026 سے 2028 تک کا خصوصی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔

پی اینڈ ڈی بورڈ کو جی ایس پی پلس فوکل پرسن نامزد کرنے اور تمام متعلقہ محکموں سے قانونی عملدرآمد اور کارکردگی سے متعلق اعدادوشمار فوری طور پر حاصل کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی تین سالہ مانیٹرنگ کے دوران پلان آف ایکشن پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ پنجاب کا حتمی جی ایس پی پلس پلان صوبائی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔

نئے جی ایس پی پلس نظام میں ماحولیات، انسانی حقوق، لیبر قوانین اور گورننس سے متعلق عالمی تقاضے مزید سخت کر دیئے گئے ہیں جبکہ پاکستان کو 31 دسمبر 2028 تک جی ایس پی پلس کے اگلے مرحلے کے لیے نئی درخواست جمع کرانا ہوگی۔

حکام کے مطابق یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی برقرار رکھنے کے لیے تمام صوبائی محکموں کو متحرک کر دیا گیا ہے اور آئندہ مرحلے میں ترقیاتی منصوبہ بندی، ماحولیات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے