(لاہور نیوز) عالمی انسدادِ چائلڈ لیبر ڈے کے موقع پر صوبائی وزیر لیبر و افرادی قوت محمد منشاءاللہ بٹ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ جو معاشرہ اپنے بچوں کو محفوظ، تعلیم یافتہ اور باوقار مستقبل فراہم نہ کر سکے، وہ کبھی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں سے مشقت ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کے خاتمے کیلئے پنجاب حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت محکمہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورسز میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے تاریخی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات ہیں کہ چائلڈ لیبر کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت برداشت نہیں کی جائے گی اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
محمد منشاءاللہ بٹ نے بتایا کہ پنجاب لیبر کوڈ 2026 کے تحت کام کرنے کی کم از کم عمر 15 سال سے بڑھا کر 16 سال کر دی گئی ہے، جبکہ خطرناک صنعتی یونٹس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے انفورسمنٹ سسٹم کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی پر سزاؤں اور جرمانوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق بحالی اور فلاحی اقدامات کے تحت ریفرل اور ریہیبلیٹیشن سسٹم کے ذریعے اب تک ہزاروں بچوں کو مشقت سے نکال کر تعلیمی اداروں اور ویلفیئر سینٹرز میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق پنجاب کو ایک ایسے خطے میں تبدیل کیا جائے گا جہاں کوئی بچہ مزدوری پر مجبور نہ ہو بلکہ تعلیم کے ذریعے اپنا روشن مستقبل تعمیر کر سکے۔
