(لاہورنیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اپنا گھر سکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا انتہائی خوش آئند ہے، اگر اسی رفتار سے آگے بڑھیں گے تو اپنے گھر کے زیادہ سے زیادہ خواہشمند افراد کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر اپنا گھر سکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، وزیراعظم نے شہریوں کے لیے اپنا گھر سکیم میں شمولیت اختیار کرنے کے عمل میں مزید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس سکیم کی کامیابی سے تعمیرات کے شعبے میں تیزی آئے گی، اس شعبے سے منسلک صنعتوں کو فروغ ملے گا اور معاشی ترقی کی رفتار بڑھے گی، وزیراعظم
وزیراعظم نے وزارت ہاؤسنگ کو سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر اپنا گھر سکیم کے درخواست فارم کو آسان فہم بنانے اور بینکوں کو اپنا گھر سکیم کی درست درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے اپنا گھر سکیم کے حوالے سے پورے ملک میں آگاہی مہم مزید تیز کرنے، زمینوں کے کاغذات کے حصول میں تیزی لانے کے لیے صوبوں کو ضلعی سطح پر اپنا گھر سکیم کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو اپنا گھر سکیم کی اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ پرائم منسٹر اپنا گھر سکیم کی مد میں اب تک مجموعی طور پر 11 ارب روپے کے قرضے دیئے جا چکے ہیں۔
شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ اس سال مارچ میں وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے قوائد و ضوابط کو مزید آسان بنانے کے بعد گھر کے خواہشمند افراد کی درخواستوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر سے 67 ہزار 900 افراد نے درخواستیں جمع کرائی ہیں، جس میں سے 16 ہزار 587 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں جب کہ 3 ہزار 146 افراد کو قرضوں کی ادائیگی ہو چکی ہے۔
شرکا کو بتایا گیا کہ آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے عمل کو ڈیجیٹل ہب، سہولت ڈیسکس کے قیام اور دیگر اقدامات کے ذریعے مزید تیز بنایا جا رہا ہے، سٹیٹ بینک نے بینکوں کو اپنا گھر سکیم کے درخواست فارمز کو 15 دن کے اندر پراسیس کرنے کا پابند بنایا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پارلیمنٹ نے حال ہی میں کونڈومینیئم اور فنانشل انسٹیٹیوشن ریکوری کے قوانین پاس کیے جس سے ہاؤسنگ کے شعبے میں قانونی رکاوٹیں دور ہوں گی اور اس شعبے کو فروغ ملے گا، اپنا گھر سکیم کی پیشرفت کی نگرانی کے لیے خصوصی دیجیٹل پورٹل لانچ کیا جا چکا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، میاں ریاض حسین پیر زادہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک، پاکستانی بینکوں کے صدور، سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
