اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 288.00 زندہ مرغی
  • 417.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.07 قیمت فروخت : 41.14
  • یورو قیمت خرید: 323.04 قیمت فروخت : 323.62
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 373.63 قیمت فروخت : 374.31
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.15 قیمت فروخت : 74.28
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 463200 دس گرام : 397100
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 424597 دس گرام : 364006
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7654 دس گرام : 6569
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد

04 Jun 2026
04 Jun 2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست کو جھوٹی بے بنیاد، غیر مستند اور مبہم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور عدالتی وقت ضائع کرنے اور متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر درخواست دائر کرنے پر جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کو ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے۔

جسٹس خالد اسحاق نے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار جوڈیشل ایکٹیوازم پینل نے توانائی بحران کے حوالے سے مفادِ عامہ کی آئینی درخواست دائر کی تھی، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے پاس نیپرا ایکٹ اور اوگرا آرڈیننس کے تحت داد رسی کے لیے متعلقہ فورمز موجود تھے، درخواست گزار نے متعلقہ فورمز استعمال کیے بغیر براہ راست عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت کے مطابق درخواست گزار لوڈشیڈنگ، ٹیرف، لائن لاسز اور پالیسی معاملات پر کوئی ٹھوس شواہد یا قانونی بنیاد پیش نہیں کر سکا، توانائی بحران جیسے پیچیدہ مسائل کا حل عدالتی احکامات سے نہیں بلکہ متعلقہ اداروں اور مؤثر پالیسی سازی سے نکلے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلیٹ فورم نہیں بن سکتی اور تکنیکی و پالیسی معاملات ایگزیکٹو اور ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ مفادِ عامہ کی درخواستیں ایک اہم قانونی ہتھیار ہیں جنہیں انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہئے، مفادِ عامہ کے نام پر شہرت کی خواہش یا بدنیتی نہیں ہونی چاہئے، ہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ انصاف کا راستہ آلودہ نہ ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مفادِ عامہ کی درخواست کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار مستند اور قابلِ اعتماد حقائق پیش کرے، قیاس آرائی، فرضی الزامات یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفادِ عامہ کے نام پر قابلِ سماعت نہیں ہو سکتی، توانائی جیسے پیچیدہ معاملے میں عدالتی مداخلت اس وقت تک مناسب نہیں جب تک بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ثابت نہ ہو۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی وسائل اور وقت کے ضیاع کی روک تھام کے لیے ایسی درخواستوں پر جرمانہ عائد کرنا ضروری ہے، درخواست گزار نے پٹیشن کے ساتھ یہ سرٹیفکیٹ جمع کرایا کہ وہ متبادل فورمز استعمال کر چکا ہے جبکہ درخواست گزار کا جمع کرایا گیا سرٹیفکیٹ بھی غلط ثابت ہوا لہٰذادرخواست گزار ایک لاکھ روپے جرمانہ لاہور ہائیکورٹ بار کی ڈسپنسری میں جمع کرائے گا اور جرمانے کی رسید 45 روز کے اندر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرانا ہوگی۔

عدالت نے جرمانے سے متعلق حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 30 روز تک حکمِ امتناع بھی جاری کر دیا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے