پنجاب اسمبلی: مسودہ قانون ترمیم صوبائی ملازمین کا سماجی تحفظ 2026ء کا بل منظور
(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی میں حکومت نے مسودہ قانون ترمیم صوبائی ملازمین کا سماجی تحفظ 2026ء کا بل منظور کر لیا۔
بل صوبائی پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان میں پیش کیا، وقفہ سوالات میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر پیپلز پارٹی رکن اسمبلی ممتاز چانگ اور ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ٹائم ختم ہونے پر آپ کو مائیک نہیں دے سکتا، ممتاز چانگ نے کہا کہ آپ بولنے کی اجازت نہیں دیتے، اپوزیشن والا سلوک نہ کریں۔ ڈپٹی سپیکر نے پھر کہا کہ آپ گلہ نہ پھاڑیں میں ٹائم نہیں دے سکتا۔
پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی ممتاز چانگ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو بات کرنے کا سارا وقت اپوزیشن ارکان کو دینے کاالزام لگایا گیا جس پر ڈپٹی سپیکر نے ممتاز چانگ کا مائیک بند کرنے کا حکم دیدیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو دو سال تک مائیک پر بات کرنے کا موقع دیا اب سیٹ پر بیٹھ جائیں اور گلہ نہ پھاڑیں، یہ ہاؤس ہے رحیم یار خان نہیں جہاں گلہ پھاڑ کر بات کریں گے، ممتاز چانگ نے سرائیکی صوبہ بنانے اور اپنی حکومت بنانے کی دھمکی دیدی۔
اپوزیشن رکن سردار محمد علی نے پیپلزپارٹی کو امریکہ ایران معاہدہ میں چائے والے کا کردار دینے کی استدعا کر دی، جس پر ممتاز چانگ سیخ پا ہو گئے۔ ممتاز چانگ نے کہا کہ آصف علی زرداری کی مشاورت سے ہی بات چیت ہو رہی تھی آپ نے دیکھا نہیں۔
ہم پنجاب اسمبلی میں ذاتی مسئلہ حل کروانے نہیں عوامی مسائل کے حل کےلئے آتے ہیں، جتنا وقت اپوزیشن کو دیتے ہیں اس میں سے چوتھائی حصہ ہمیں بھی دیا کریں، ہمارے حلقہ میں نہ کوئی گرائونڈ ہے نہ اسٹیڈیم ہے اپنی فریاد لے کر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں آتا ہوں۔
دفاتر کے دھکے کھاکر مسائل کی نشاندہی کیلئے ایوان میں آتے ہیں تو بات ہی نہیں کرنے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے مسائل سامنے لایا تو مسئلہ حل ہوا وزیر اعلی نے بہترین کام کیا۔
ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ممتاز چانگ صاحب زیادتی نہ کریں، دو سال کھڑے ہوئے کچے و حلقہ پنجاب اصلاح و تنقید کی بات کی تو بات سنی، ہائوس کو کتنا ٹائم دیا گیا ساری تفصیلات نکال لیں گے۔ ممتاز چانگ نے کہا کہ قیادت کی وجہ سے آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ نہیں حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
اپوزیشن رکن سردار محمد خان نے کہا کہ امریکہ ایران مذاکراتی عمل میں ن لیگ کی حکومت نے جو پیپلزپارٹی کے ساتھ کردیا وہ ناقابل فراموش ہے، مذاکراتی عمل میں نہ بلاول بھٹو کو بلایا گیا اور نہ ہی زرداری کو بلایا گیا، اگر پیپلزپارٹی کو ایران امریکہ مذاکراتی عمل میں چائے والا کردار ہی دے دیتے تو اچھا ہوتا۔
