(لاہور نیوز) محکمہ خوراک پنجاب کی سیکرٹری ڈاکٹر کرن خورشید نے فیلڈ میں متحرک رہتے ہوئے ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور فیصل آباد کے مختلف گندم خریداری مراکز (پی آر سنٹرز) کا اچانک دورہ کیا اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق یہ دورے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کیے گئے، جہاں "پہلے آؤ، پہلے پاؤ" کی پالیسی کے تحت گندم خریداری یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی، سیکرٹری فوڈ نے واضح کیا کہ مڈل مین کا کردار ختم کر کے کسانوں سے براہ راست خریداری جاری رکھی جائے گی اور مہم میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
انہوں نے گندم کے وزن اور نمی کے تناسب کا خود معائنہ کیا جبکہ ریکارڈ اور ڈیجیٹل سسٹم کی مانیٹرنگ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا، سیکرٹری فوڈ کے مطابق کسانوں کو گندم کی ادائیگی 72 گھنٹوں میں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی جبکہ حکومت کی جانب سے گندم 3500 روپے فی 40 کلو کے حساب سے خریدی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ننکانہ میں اب تک 2,091 کاشتکار رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ 1,761.4 میٹرک ٹن باردانہ جاری کیا جا چکا ہے۔ وہاں 62 میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔
فیصل آباد میں 4,287 کاشتکاروں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے اور 454.5 میٹرک ٹن باردانہ تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ مراکز پر گندم کی آمد شروع ہو گئی ہے اور خریداری کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔
شیخوپورہ میں گندم خریداری کے لیے 7 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں کسانوں کو جلد از جلد گندم لانے اور اپنی محنت کا بہتر معاوضہ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
