(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے فریز بینک اکاؤنٹ کا چیک دینے والے شہری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اہم قانونی اصول طے کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے فریز اکاؤنٹ کا چیک دینے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے سیشن عدالت کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔
سیشن عدالت نے فریز بینک اکاؤنٹ کا چیک دینے والے شہری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، جسے شہری شہباز نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے سیشن عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ کے فیصلے کے بعد قانونی طور پر یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ ایسا چیک جاری کرنا جس کے ذریعے ادائیگی کا امکان ہی موجود نہ ہو، محض معمول کا مالی تنازع نہیں بلکہ حالات کے مطابق فریب دہی اور قابلِ تعزیر عمل بن سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے بینک اکاؤنٹ کا چیک دینا جس سے رقم کی ادائیگی ممکن نہ ہو، فراڈ کے زمرے میں آتا ہے، یہ فیصلہ بینک اکاؤنٹس، چیک کے اجراء اور مالی لین دین سے متعلق مقدمات میں اہم قانونی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
