(لاہور نیوز) پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ ملک میں ہر طرف مس مینجمنٹ ہے، اس سال برآمدات کی مد میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا کہ پچھلے سال ہماری برآمدات 33.3 ارب ڈالر کی تھیں، حکومت نے ہر سال برآمدات 10فیصد بڑھانے کا ہدف مقرر کیا، مگر ہم اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان کریں گے، ہمیں اپنے اداروں کو تگڑا کرنا پڑے گا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ جن لوگوں کو اپنے کام کا نہیں پتہ وہ ادارے نہیں چلا سکتے، پاکستان میں کوئی انڈسٹری بند ہو رہی ہے اور کوئی آدھی چل رہی ہے، ہمارے ملک میں 12ہزار میگاواٹ بجلی لگی ہوئی ہے، ہم صرف 3 ہزار میگاواٹ بجلی استعمال کر رہے ہیں، ہم 9ہزار میگاواٹ بجلی استعمال ہی نہیں کر رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بجلی ٹرانسمیشن لائنز پر گزشتہ 5 سال سے کوئی کام نہیں ہوا، مٹیاری سے لاہور تک بجلی ٹرانسمیشن لائن پر کوئی کام نہیں ہوا، انڈسٹری پہلے ہی رو رو کر چل رہی ہے، انڈسٹری جب تک 24 گھنٹے نہیں چلے گی تو کام نہیں چلے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں ریسٹورنٹ روزگار میں اضافہ کرتے ہیں، لوگ کہتے ہیں پیسہ پاکستان سے باہر جا رہا ہے، پیسہ وہاں جاتا ہے جہاں نفع حاصل ہو رہا ہے، ملک میں مکمل طور پر مس مینجمنٹ ہے، آپ پاکستان میں نفع دیں پیسہ خود واپس آ جائے گا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ اتنے زیادہ ٹیکسز ہوں گے تو جہاں نفع ہو گا پیسہ وہاں چلا جائے گا، آج رات 12بجے پوری گیم ہی چینج ہو گئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امن کا نوبل انعام ملنا چاہئے۔
