اپ ڈیٹس
  • 241.00 انڈے فی درجن
  • 373.00 زندہ مرغی
  • 540.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • یورو قیمت خرید: 329.37 قیمت فروخت : 329.97
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 378.71 قیمت فروخت : 379.39
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 200.60 قیمت فروخت : 200.96
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.31 قیمت فروخت : 203.67
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.33 قیمت فروخت : 74.46
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.92 قیمت فروخت : 76.05
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 501800 دس گرام : 430200
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 459980 دس گرام : 394347
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8290 دس گرام : 7115
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو مفت یونٹس کوئی مستقل یا قانونی حق نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

17 Apr 2026
17 Apr 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران کو مفت بجلی یونٹس دینے سے متعلق اہم کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومتی پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے جیپکو انجینئرز اینڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کی درخواست خارج کرتے ہوئے 5 دسمبر 2023 کے حکومتی نوٹیفکیشن کو برقرار رکھا، جس کے تحت بی پی ایس 17 اور اس سے اوپر افسران کیلئے مفت بجلی یونٹس کو مونیٹائز (رقم میں تبدیل) کر دیا گیا تھا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ بجلی کے ملازمین کو مفت یونٹس کوئی مستقل یا قانونی حق نہیں بلکہ یہ ایک مراعاتی سہولت تھی، جسے انتظامی پالیسی کے تحت تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ مفت یونٹس ان کی تنخواہ کا حصہ ہیں یا کسی قانون کے تحت ان کا حق بنتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ ایسی مراعات اس وقت تک سروس کنڈیشنز کا حصہ نہیں بنتیں جب تک انہیں قانونی حیثیت حاصل نہ ہو۔

فیصلے کے مطابق اس معاملے میں کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی اور یہ آجر و ملازم کے تعلق کا حصہ ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پالیسی تمام متعلقہ اداروں پر یکساں لاگو کی گئی اور کسی امتیازی سلوک یا من مانے اقدام کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ مختلف گریڈز کیلئے الگ پالیسی بنانا امتیاز نہیں کیونکہ بی پی ایس 17 اور اس سے اوپر افسران کا کیڈر الگ ہوتا ہے۔

 پاور ڈویژن پاکستان  کی پالیسی کو معقول اور مالی طور پر درست قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پاور سیکٹر کو مالی مشکلات اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے مونیٹائزیشن جیسے اقدامات ضروری ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملازمین کی سہولت ختم نہیں کی گئی بلکہ اسے نقد رقم کی صورت میں تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی تنخواہ پر بھی اس کا کوئی منفی اثر ثابت نہیں ہوا۔

عدالت نے واضح کیا کہ پالیسی فیصلوں میں عدالتی مداخلت محدود ہوتی ہے اور جب تک کوئی پالیسی غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی نہ ہو، اسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ عدلیہ حکومت کے مالی و انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی کیونکہ یہ ایگزیکٹو اختیار کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 25 کی خلاف ورزی کے الزامات بھی مسترد کر دیے۔

جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ملک تنویر احمد اعوان نے عدالت کی معاونت کی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے