پنجاب میں جائیدادوں پر اسٹامپ ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کرنے کا فیصلہ
(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے غیر منقولہ جائیدادوں پر اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے 3 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد شہری اور دیہی علاقوں میں اسٹامپ ڈیوٹی کے مختلف نرخوں کو ختم کر کے ایک یکساں نظام نافذ کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں اسٹامپ (ترمیمی) آرڈیننس پیش کیا گیا ہے جس کے تحت اسٹامپ ایکٹ 1899 میں اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے مطابق دیہی علاقوں میں موجودہ 3 فیصد شرح کو بھی کم کر کے 1 فیصد کیا جائے گا تاکہ پورے صوبے میں یکساں پالیسی نافذ ہو سکے۔
متن کے مطابق شہری علاقوں میں پہلے ہی سٹیمپ ڈیوٹی 1 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 3 فیصد شرح کے باعث قانونی اور انتظامی مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فرق کو ختم کرنا نظام کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے۔
ترمیمی آرڈیننس میں “قابلِ منتقلی معاہدہ” کو بھی اسٹامپ ایکٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ گورنر پنجاب اس ترمیمی آرڈیننس کی منظوری 10 اپریل کو دے چکے ہیں۔ آرڈیننس فی الحال 90 دن کے لیے نافذ العمل ہے اور اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے جو دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کے بعد اسے پنجاب اسمبلی سے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام سے جائیداد کی خرید و فروخت میں آسانی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرگرمی بڑھنے کی توقع ہے۔
