پنجاب میں 485 دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کا فیصلہ، صاف پانی منصوبوں پر تیزپیشرفت کی ہدایت
(لاہور نیوز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم خصوصی اجلاس میں مثالی گاؤں اور صاف پانی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ صوبے بھر کے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے مثالی گاؤں پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کی اصولی منظوری دے دی اور حکام سے تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن طلب کر لی۔ منصوبے کے تحت پنجاب کے 485 دیہات کو مثالی گاؤں میں تبدیل کیا جائے گا جہاں واٹر سپلائی، سولر سسٹم پر مبنی ٹیوب ویل، نکاسی آب کا نظام اور گندے پانی کے تالابوں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ 30 جون تک دیہات میں گندے پانی کے تالابوں کی صفائی مکمل کی جائے جبکہ 31 اگست تک سیپٹک ٹینکس کی تعمیر بھی مکمل کر لی جائے، تاکہ پانی کو قدرتی طریقے سے صاف کر کے آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ راجن پور میں واٹر سپلائی کی کلسٹر بیسڈ اسکیم 15 مئی تک مکمل کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مثالی گاؤں پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر 59 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ وزیر اعلیٰ نے منصوبے کی مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کی ہدایت کی، جس کے تحت ہر گاؤں کی ترقی سے قبل اور بعد کی ویڈیوز پیش کی جائیں گی۔
صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فوری مرمت اور بحالی کا حکم بھی دیا گیا، جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن 1336 قائم کر دی گئی ہے۔ خوشاب اور چشتیاں میں بوٹلنگ پلانٹس کی جلد تکمیل کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دیہات میں بسنے والے افراد بھی شہریوں کے برابر معیار زندگی کے حق دار ہیں اور صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دیہات کو مثالی گاؤں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔
