پنجاب میں بڑے روڈ منصوبوں کی منظوری، ملتان وہاڑی روڈ پہلی ڈسٹ فری سڑک قرار
(لاہور نیوز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں صوبے بھر میں روڈ انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی جبکہ جاری سکیموں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ملتان-وہاڑی روڈ کی جلد اور معیاری تعمیر کی ہدایت کرتے ہوئے اسے صوبے کی پہلی ڈسٹ فری سڑک قرار دیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ روڈ کی بیس اور سب بیس مکمل ہو چکی ہے جبکہ اسفالٹ بچھانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس میں لاہور رنگ روڈ کے ایس ایل فور منصوبے کی منظوری دی گئی، جبکہ سیالکوٹ رنگ روڈ کے نئے فیز کی اصولی منظوری بھی دی گئی جو وزیرآباد روڈ سے سیالکوٹ پسرور روڈ تک تعمیر ہوگا۔
علاوہ ازیں تھل ایکسپریس وے کا مجوزہ منصوبہ پیش کیا گیا، جو بھکر، لیہ اور تھل کے علاقوں کو ایم فور موٹروے سے منسلک کرے گا۔ اجلاس میں راولپنڈی سگنل فری کوریڈور پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا، جس کے تحت 7 انڈر پاسز اور ایک اوورہیڈ برج تعمیر کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے ملتان-وہاڑی روڈ سمیت دیگر منصوبوں کی ویکلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام جاری روڈ پراجیکٹس ہر صورت مقررہ وقت پر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روڈ سیکٹر کے منصوبے 30 جون تک مکمل کیے جائیں۔
اجلاس میں سیکرٹری تعمیرات و مواصلات راجہ جہانگیر انور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں روڈز سیکٹر کے مجموعی طور پر 2143 منصوبے جاری ہیں جن میں 258 زیر تکمیل ہیں۔ سی ایم انیشیٹو کے تحت 133 جبکہ دیگر 125 منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
روڈ بحالی پروگرام فیز ون کے تحت 85 سکیموں میں سے 38 مکمل جبکہ 47 پر کام جاری ہے، جبکہ فیز ٹو میں 41 سکیموں میں سے 18 مکمل اور 25 زیر تکمیل ہیں۔ مزید برآں مختلف شہروں میں جاری 462 سکیموں میں سے 376 مکمل جبکہ 86 پر کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے جبکہ دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر روڈ انفراسٹرکچر سے کھیت سے منڈی اور کارخانوں سے مارکیٹ تک رسائی آسان ہوگی۔
اجلاس میں لاہور ٹورازم ہائی وے کا تصویری جائزہ بھی پیش کیا گیا، جس پر وزیراعلیٰ نے شجرکاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مساوی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر شہر اور ہر گاؤں میں سڑکوں کی تعمیر ناگزیر ہے۔
