18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر مکمل پابندی، پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026’ منظور
(لاہور نیوز) پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026’ منظور کر لیا گیا، جس کے تحت نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔
پنجاب کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے ‘پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026’ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین پیرا اشرف رسول کی صدارت میں ہوا، جس میں آرڈیننس کے سخت ترین متن کی توثیق کی گئی، نئے آرڈیننس کے مطابق نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔
گورنر پنجاب سلیم حیدر پہلے ہی اس آرڈیننس کی منظوری دے چکے ہیں، اس قانون کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو ‘زیادتی’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جس کی سزا 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔
آرڈیننس میں مختلف فریقین کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے کو 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ نکاح رجسٹر کرنے والے اور نکاح پڑھانے والے کو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھگتنا ہوگا۔
آرڈیننس کے مطابق شادی کی کوشش کرنے والے سرپرست یا کسی بھی شخص کو 2 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا اور اگر بچوں کو دوسرے صوبے لے جا کر شادی کرائی گئی، تو اس پر بھی 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
قائمہ کمیٹی کی منظوری کے بعد یہ آرڈیننس اب حتمی قانونی شکل اختیار کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،قانون کے مطابق نکاح رجسٹرار اور والدین بھی کسی بھی قسم کی لاپرواہی برتنے پر قانون کی زد میں آئیں گے۔
