(لاہور نیوز) پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایشن پنجاب نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ دیا جس میں مطالبات کا چارٹر پیش کیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پی ایم ایس افسران 1300 جبکہ پی اے ایس افسران صرف 336 ہیں، پی اے ایس افسران کا پی ایم ایس افسران سے مسلسل امتیازی سلوک جاری ہے، پی ایم ایس افسران کی ترقیوں کے راستے دانستہ طور پر محدود کئےجا رہے ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں 2008 بیچ گریڈ 20، پنجاب میں تاحال گریڈ 18 میں ہے
اعلیٰ انتظامی اسامیوں پر پی اے ایس افسران غیر متناسب حد تک قابض ہیں، گریڈ 22 کی 100 فیصد اسامیاں صرف پی اے ایس افسران کے لیے مختص ہیں، گریڈ 21 میں پی اے ایس کا حصہ 65 جبکہ پی ایم ایس کا 35 فیصد ہے۔
گریڈ 20 میں پی اے ایس کا حصہ 60 جبکہ پی ایم ایس کا 40 فیصد ہے، پی ایم ایس افسران کے پروموشن بورڈز کے انعقاد میں دانستہ تاخیر کی جاتی ہے،شفافیت کے لیے پروموشن بورڈز پنجاب پبلک سروس کمیشن کے سپرد کیے جائیں،تقرریوں اور تبادلوں میں اقرباپروری اور پسند و ناپسند کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پنجاب کے 41 سیکرٹریز میں سے صرف 7 پی ایم ایس افسران تعینات ہیں، پنجاب کے 10 کمشنرز میں سے صرف 2 پی ایم ایس افسران تعینات ہیں جبکہ صوبے کے 41 ڈپٹی کمشنرز میں سے صرف 8 پی ایم ایس افسران ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں بھی پی ایم ایس سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جبکہ جی او آر میں 95 فیصد سرکاری رہائش گاہیں پی اے ایس افسران کو الاٹ ہیں۔
